اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 410
اصحاب بدر جلد 3 410 حضرت علی خدائی نوشتے پورے ہو چکے تھے اور محمد رسول اللہ صلی علیہ کی سلامتی کے ساتھ مکہ سے باہر جاچکے تھے۔اس وقت حضرت علی کو کیا معلوم تھا کہ مجھے اس ایمان کے بدلے میں کیا ملنے والا ہے۔ہاں اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ اس قربانی کے بدلے میں صرف حضرت علی ہی عزت نہیں پائیں گے بلکہ حضرت علی کی اولاد بھی عزت پائے گی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت علی پر پہلا فضل تو یہ کیا کہ ان کو رسول کریم صلی الم کی دامادی کا شرف بخشا۔دوسرا فضل اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ کیا کہ رسول کریم صلی اللی ایم کے دل میں ان کے لیے اتنی محبت پیدا کی کہ آپ نے بارہا ان کی تعریف فرمائی۔801 بہر حال یہ ایک ہی واقعہ کے مختلف ذریعوں سے حوالے میں نے پیش کیے ہیں جو اصل واقعہ کے لحاظ سے تو ایک ہی چیز ہوتی ہے لیکن مختلف رنگوں میں جب میں بیان کرتا ہوں تو اس لیے کہ اس کی تفصیل اور تشریح جو ہے اس میں اس صحابی کی بعض نئی باتیں پتہ لگ جاتی ہیں یا نئے انداز میں پیش کی جاتی ہیں جس سے کئی پہلو سامنے آجاتے ہیں۔اور یہاں حضرت علی کے معاملے میں حضرت علی کی شخصیت کے مختلف پہلو بھی سامنے آگئے۔آنحضرت صلی اللہ علم کا ہر صحابی سے جو تعلق تھا اس کا بھی پتہ لگ جاتا ہے تو اس طرح بعض دفعہ لگتا یہی ہے کہ ایک ہی حوالہ مختلف جگہ پیش کیا جا رہا ہے لیکن ہر حوالے کا انداز مختلف ہوتا ہے اس لیے پیش کرتا ہوں اور یہاں حضرت علی کے حوالے سے بھی یہی باتیں ہمیں پتہ چلی ہیں۔مواخات 802 803 حضرت علی کی مؤاخات کے بارے میں روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی علیم نے حضرت علی مودو مرتبہ اپنا بھائی قرار دیا۔ایک مرتبہ رسول اللہ صلی علی کم نے مہاجرین کے درمیان مکے میں مؤاخات قائم فرمائی۔پھر آپ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مدینے میں ہجرت کے بعد مؤاخات قائم فرمائی اور دونوں مرتبہ حضرت علی سے فرمایا: أنتَ أخِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَة تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔3 ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی علی کرم نے حضرت علی بن ابو طالب اور حضرت سھل بن حنیف کے درمیان مواخات کا رشتہ قائم کیا۔804 مواخات کب کب ہوئی؟ اس بارے میں تاریخ میں ذکر ملتا ہے کہ مؤاخات دو مر تبہ ہوئی۔چنانچہ صحیح بخاری کے ایک شارح علامہ قسطلانی بیان کرتے ہیں کہ مؤاخات دو مر تبہ ہوئی۔پہلی مرتبہ ہجرت سے قبل کتنے میں مہاجرین میں جن میں آپ صلی الیہ کم نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے در میان، حضرت عثمان اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کے درمیان، حضرت زبیر اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے درمیان اور حضرت علی اور اپنے درمیان مواخات قائم فرمائی۔پھر جب آپ صلی للی کم مدینہ تشریف لائے تو مہاجرین اور انصار کے درمیان حضرت انس بن مالک کے گھر میں مؤاخات قائم فرمائی۔الله