اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 376 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 376

حاب بدر جلد 3 376 حضرت عثمان بن عفان فرمایا: میں تمہیں اللہ اور اسلام کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ میں نے جیش عُسرہ، غزوہ تبوک کے لشکر کی تیاری اپنے مال سے کی تھی۔اس پر لوگوں نے کہا اللہ کی قسم ایسے ہی ہے۔پھر آپ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ اور اسلام کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ یہ مسجد نبوی جب نمازیوں کے لیے تنگ ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص فلاں خاندان سے زمین کا یہ ٹکڑا خرید کر مسجد میں شامل کر دے گا تو اس کے لیے جنت میں اس سے بہتر ہو گا۔چنانچہ میں نے زمین کا یہ ٹکڑا اپنے ذاتی مال سے خرید کر مسجد میں شامل کر دیا اور اب تم لوگ مجھے اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے سے بھی روک رہے ہو۔اس پر ان لوگوں نے کہا اللہ کی قسم ایسا ہی ہے۔721 پھر آپ نے فرمایا میں تمہیں اللہ اور اسلام کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی شہید نامی پہاڑی پر تھے اور آپ کے ہمراہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ اور میں تھا۔جب پہاڑی لرزی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا پاؤں مارتے ہوئے فرمایا اے شبیر ! ٹھہر جا کیونکہ تجھ پر ایک نبی اور ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔اس پر ان لوگوں نے کہا اللہ کی قسم ایسا ہی ہے۔آپ نے فرمایا اللہ اکبر رب کعبہ کی قسم ان لوگوں نے میرے حق میں یہ گواہی دے دی ہے یعنی یہ کہ میں شہادت کا مقام پانے والا ہوں۔مسجد نبوی کی مزید توسیع جو ہوئی وہ زیادہ تر حضرت عثمان کے زمانے میں ہوئی تھی۔اس لیے اس کی مختصر تاریخ اور ابتدائی حالات اور پھر توسیع کے بارے میں جو بھی بیان ہے وہ بتاتا ہوں۔پہلے تو یہ بیان کیا گیا ہے ناں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں توسیع کی گئی۔اس کے بارے میں ایک نوٹ یہ بھی ہے کہ ماہ ربیع الاول یکم ہجری بمطابق اکتوبر 622ء کے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے مسجد نبوی کا سنگ بنیادرکھا۔بنیاد تقریباً تین ذرع یعنی ڈیڑھ میٹر گہری تھی۔بنیاد کے لیے پتھر سے گھڑی ہوئی اینٹوں سے دیوار بنائی گئی جبکہ اوپر کی دیوار گارے سے بنی اور دھوپ میں سکھائی گئی کچی اینٹوں سے بنائی گئی تھی اور دھوپ میں سکھائی گئی۔دیوار کچی اینٹوں سے بنائی گئی تھی۔722 یہ مسجد کی تعمیر کی تاریخ ہے۔ساتھ ساتھ اس میں توسیع کا بھی ذکر آجائے گا۔مسجد کی دیواریں تقریباً پون میٹر، تقریبا دو اڑھائی فٹ چوڑی رکھی گئی تھیں، جن کی اونچائی تقریباً سات ذرع یعنی تقریباً ساڑھے تین میٹر تھی۔723 725 مسجد نبوی کی تکمیل ماہ شوال یکم ہجری، اپریل 623ء میں ہوئی۔724 حضرت خارجہ بن زید بن ثابت کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد کا طول ستر ذرع، تقریباً 35 میٹر اور عرض ساٹھ ذرع، تقریباً 30 میٹر رکھا تھا۔رسول کریم صلی علیم کے دور میں مسجد نبوی کی پہلی توسیع محرم 17 ہجری، جون 628ء میں ہوئی۔جب رسول الله صلى ليوم غزوہ خیبر سے کامیاب ہو کر کوٹے تو آپ نے مسجد نبوی کی توسیع اور تعمیر نو کا حکم جاری فرمایا۔مسجد کی توسیع جنوبی یعنی جانب قبلہ اور مشرقی جانب نہ کی گئی۔زیادہ تر توسیع شمالی جانب کی