اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 375
اصحاب بدر جلد 3 375 حضرت عثمان بن عفان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان کو بھیجا اور بیعت رضوان اس وقت ہوئی جب آپ مکہ والوں کی طرف گئے ہوئے تھے۔بیعتِ رضوان کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور آپ نے اپنے بائیں ہاتھ کو اپنے دوسرے ہاتھ پر زور سے رکھتے ہوئے فرمایا یہ عثمان کے لیے ہے۔حضرت ابن عمرؓ نے یہ بیان فرمانے کے بعد اس شخص سے کہا۔اب یہ باتیں اپنے ساتھ لے جاؤ اور یاد رکھنا یہ کوئی اعتراض کی باتیں نہیں ہیں۔جاؤ۔719 یہ بخاری کی روایت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مسجد نبوی کی توسیع ہوئی تھی۔اس میں بھی حضرت عثمان کو حصہ لینے کی توفیق ملی۔ابو ملیح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد مدینہ کی توسیع کے لیے زمین کے ایک ٹکڑے کے مالک کو جو ایک انصاری تھا فرمایا: تمہارے لیے اس قطعہ کے بدلے جنت میں گھر ہو گا مگر اس نے دینے سے انکار کر دیا۔اس پر حضرت عثمان آئے اور اس شخص سے کہا کہ تمہارے لیے اس قطعہ کے بدلے ، اس ٹکڑ از مین کے بدلے میں دس ہزار درہم دیتا ہوں۔آپ نے اس سے وہ قطعہ خرید لیا۔پھر حضرت عثمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی یارسول اللہ ! آپ مجھ سے زمین کا یہ ٹکڑا خریدیں جو میں نے انصاری سے خریدا ہے۔اس پر آپ نے وہ زمین کا ٹکڑا حضرت عثمان سے جنت میں گھر کے بدلے خرید لیا۔وہی بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر حضرت عثمان کو فرمائی کہ تمہارا جنت میں گھر ہو گا۔حضرت عثمان نے بتایا کہ میں نے دس ہزار درہم کے بدلے میں اسے خرید لیا ہے۔اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اینٹ رکھی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر کو بلایا تو انہوں نے بھی ایک اینٹ رکھی۔پھر حضرت عمرؓ کو بلایا انہوں نے بھی ایک اینٹ رکھی۔پھر حضرت عثمان آئے اور انہوں نے بھی ایک اینٹ رکھی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی لوگوں سے فرمایا کہ اب تم سب اینٹیں رکھو تو ان سب نے رکھیں۔720 یہ جو اس کی ایکسٹینشن (extension) ہوئی تھی تو اس طرح اس کی بنیاد پڑی۔تُمَامَه بن حَنان قُشَيْرِی بیان کرتے ہیں کہ میں محاصرے کے وقت حاضر تھا جب حضرت عثمان نے جھانک کر لوگوں سے فرمایا۔جب حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا گیا تھا تو حضرت عثمان نے فرمایا: تمہیں اللہ اور اسلام کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو رومہ نامی کنویں کے علاوہ میٹھے پانی کا کوئی انتظام نہ تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے جو رومہ کنویں کو خریدے گا تا کہ وہ اس میں اپنا ڈول مسلمانوں کے ڈول کے ساتھ ڈالے۔یعنی وہ خود بھی پیے اور مسلمان بھی اس سے پئیں اور جنت میں اس کے لیے اس سے بہتر بدلہ ہو گا۔حضرت عثمان نے کہا کہ اس پر میں نے وہ کنواں اپنے ذاتی مال سے خریدا اور اس میں اپنا ڈول مسلمانوں کے ڈولوں کے ساتھ ڈالا اور آج تم مجھے اس سے پانی پینے سے روکتے ہو اور چاہتے ہو کہ میں سمندر کا پانی پینے پر مجبور ہو جاؤں۔اس پر لوگوں نے کہا اللہ کی قسم ! آپ نے درست فرمایا ہے۔پھر حضرت عثمان نے