اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 369 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 369

اصحاب بدر جلد 3 369 حضرت عثمان بن عفان 135 ہجری کو جمعہ کے دن شہید کیے گئے۔ابو عثمان نہدی کے مطابق حضرت عثمانؓ کی شہادت ایام تشریق کے وسط میں ہوئی یعنی بارہ ذوالحجہ کو جبکہ ابن اسحاق کے مطابق حضرت عثمان کا واقعہ شہادت حضرت عمرؓ کے واقعہ شہادت کے گیارہ سال گیارہ ماہ اور بائیس دن کے بعد ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے پچیس سال بعد ہوا۔694 695 ایک دوسری روایت میں ہے کہ عبد اللہ بن عمرو بن عثمان بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان نے بروز جمعہ 18 ذوالحجہ 136 ہجری میں نماز عصر کے بعد بیاسی سال کی عمر میں شہادت پائی۔آپؐ شہادت کے وقت روزے سے تھے۔ابو معشر کے نزدیک شہادت کے وقت آپ کی عمر 75 سال تھی۔حضرت عثمان کی تجہیز و تکفین کے بارے میں بیان ہے کہ نیار بن مکرم نے کہا کہ ہفتہ کی رات مغرب اور عشاء کے درمیان حضرت عثمان کی میت کو ہم چار اشخاص نے اٹھایا یعنی میں اور جُبیر بن مطعم اور حکیم بن حزام اور ابو جهم بن حذیفہ - حضرت جبیر بن مطعم نے آپ کی نماز جنازہ 696 پڑھائی۔معاویہ نے اس بات کی تصدیق کی۔یہی چار آپؒ کی قبر میں اترے تھے۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت جبیر بن مُطْعِمُ نے سولہ افراد کے ہمراہ حضرت عثمان کی نماز جنازہ پڑھائی۔علامہ ابن سعد کا قول ہے کہ پہلی روایت زیادہ درست ہے یعنی چار آدمیوں والی جس میں ذکر ہے کہ چار افراد نے آپؐ کی نماز جنازہ ادا کی تھی۔عبد اللہ بن عمرو بن عثمان بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کو ہفتے کی رات مغرب اور عشاء کے در میان حَش گوگب میں دفن کیا گیا۔ربیع بن مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ لوگوں کی یہ آرزو تھی کہ وہ اپنے مردوں کو حش گوگبُ میں دفن کیا کریں۔حش چھوٹے باغ کو کہتے ہیں اور کو کب ایک انصاری کا نام تھا جس کا یہ باغ تھا۔یہ جنت البقیع کے بالکل قریب ہی ایک جگہ تھی۔حضرت عثمان بن عفان کہا کرتے تھے کہ عنقریب ایک مرد صالح وفات پائے گا اور اسے وہاں دفن کیا جائے گا یعنی حَشِ گوگن میں دفن کیا جائے گا اور لوگ اس کی پیروی کریں گے۔مالک بن ابو عامر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان پہلے شخص تھے جو وہاں دفن کیے گئے۔حضرت عثمان کی تدفین کے حوالے سے ایک روایت یہ بھی ملتی ہے کہ مفسدین اور باغیوں نے تین روز تک آپ کی تدفین نہیں ہونے دی۔چنانچہ تاریخ طبری میں مذکور ہے کہ ابو بشیر عابدی نے بیان کیا کہ حضرت عثمان کی نعش تین دن تک بے گور و کفن رہی اور ان کی تدفین نہ ہونے دی گئی۔پھر حضرت حکیم بن حزام اور حضرت جبیر بن مطعم نے حضرت علی سے حضرت عثمان کی تدفین کی بابت بات کی کہ وہ حضرت عثمان کے اہل سے ان کی تدفین کی اجازت طلب کریں۔چنانچہ حضرت علی نے ایسا کیا اور انہوں نے حضرت علی کو اجازت دے دی۔جب ان لوگوں نے یعنی مفسدین نے یہ بات سنی تو وہ پتھر لے کر راستے میں بیٹھ گئے اور حضرت عثمان کے جنازے کے ساتھ ان کے اہل میں سے چند لوگ ساتھ 697