اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 342 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 342

اصحاب بدر جلد 3 342 حضرت عثمان بن عفان دورِ خلافت میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں مخالفین اسلام سے جنگ کی اور اس سے ملحقہ علاقے سجستان پر علم لہرایا۔اس کے بعد مسلمانوں نے بر صغیر کے ان علاقوں میں سکونت اختیار کر لی اور انہیں اپنا وطن قرار دے دیا تھا۔674 حضرت عثمان کے دور خلافت میں فتنہ کی بابت آنحضرت ملی الم کی پیشگوئیاں حضرت عثمان کے دور خلافت میں فتنہ کی بابت آنحضرت لی لی نیم کی پیشگوئیاں بھی ہیں۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی الم نے فرمایا: اے عثمان ! ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے ایک قمیص پہنائے۔اگر لوگ تجھ سے اس قمیص کے اتارنے کا مطالبہ کریں تو تو ان کے کہنے پر اسے ہر گزنہ اتارنا۔یہ ترمذی کی روایت ہے۔675 سنن ابن ماجہ میں یہ روایت اس طرح ہے۔حضرت عائشہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی ا ہم نے فرمایا: اے عثمان ! اگر اللہ تعالیٰ کسی دن یہ امر تمہارے سپرد کر دے اور منافق تم سے چاہیں کہ تم اپنی قمیص کو جو اللہ نے تمہیں پہنائی ہے اتار دو تو تم اسے نہ اتارنا۔آپ نے یہ تین دفعہ فرمایا۔راوی نعمان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے عرض کیا کہ آپ کو کس بات نے منع کیا تھا کہ آپ لوگوں کو اس سے آگاہ کریں؟ حضرت عائشہ نے فرمایا مجھے یہ بات بھلا دی گئی تھی۔176 حضرت کعب بن عجرہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی علیم نے ایک فتنہ کا ذکر فرمایا اور اسے قریب بنایا تو ایک شخص گزرا۔جب بیان فرما ر ہے تھے تو وہاں سے ایک شخص گزرا جس نے سر ڈھانپا ہوا تھا، چادر 677 اوڑھی ہوئی تھی۔رسول اللہ صلی یم نے فرمایا کہ یہ شخص اس دن ہدایت پر ہو گا جب یہ فتنہ ہو گا۔تو راوی کہتے ہیں کہ میں نے چھلانگ لگائی اور میں نے اس شخص کو پکڑا تو وہ حضرت عثمان تھے۔ان کو دونوں بازوؤں سے پکڑا۔پھر میں نے رسول اللہ کی طرف رخ کیا اور عرض کیا۔کیا یہ ؟ حضور نے فرمایا : ہاں یہی۔7 حضرت عائشہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی التمیم نے اپنی بیماری کے دوران فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس بعض صحابہ ہوں۔ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا ہم آپ کی خدمت میں ابو بکر کو نہ بلا لیں؟ آپ خاموش رہے۔پھر ہم نے کہا کیا ہم آپ کی خدمت میں عمر کو نہ بلا لیں ؟ آپ خاموش رہے۔پھر ہم نے کہا کیا ہم آپ کی خدمت میں عثمان کو نہ بلالیں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔وہ آئے اور آپ صلی علی نیم ان سے تنہائی میں ملے اور نبی صلی ال ام ان سے گفتگو فرمانے لگے اور عثمان کے چہرے کا رنگ بدل رہا تھا۔قیس کہتے ہیں مجھ سے ابو سفلہ جو حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام تھے انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عثمان بن عفان نے یوم الدار کے موقع پر بیان کیا کہ رسول اللہ صلی الی تم نے مجھے ایک تاکیدی ارشاد فرمایا تھا اور میں اس کی طرف جارہا ہوں۔راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان نے فرمایا۔اَنَا صَابِرُ عَلَيْهِ۔میں اس پر مضبوطی سے قائم ہوں۔یوم الدار اس دن کو کہا جاتا ہے جس دن حضرت عثمان کو منافقوں