اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 341
محاب بدر جلد 3 341 حضرت عثمان بن عفان بلہ کا محاصرہ کر لیا۔قدیم بلا خراسان کا ایک اہم ترین شہر تھا اور یہ موجودہ افغانستان کا سب سے قدیم شہر ہے۔آر۔آج کل قدیم شہر کھنڈر کی شکل میں موجود ہے۔دریائے بلخ کے دائیں کنارے سے 12 کلو میٹر دور واقع ہے۔وہاں کے لوگوں نے چار لاکھ کی رقم ادا کرنے پر صلح کی درخواست کی جو احنف بن قیس نے قبول کر لی۔667 هرات کی مہم 132 ہجری میں ہوئی۔حضرت عثمان نے خُلید بن عبد اللہ بن حَنَفِی کو هَرات اور باذغیس کی طرف روانہ کیا انہوں نے ان دونوں کو فتح کر لیا لیکن بعد میں انہوں نے بغاوت کر دی اور قارن بادشاہ کے ساتھ ہو گئے۔668 132 ہجری میں حضرت عبد اللہ بن عامر نے خُراسان پر قیس بن هیقم کو اپنا جانشین مقرر کیا اور 669 670 خود وہاں سے روانہ ہو گئے۔قارن نے مسلمانوں کے لیے ایک بڑی فوج تیار کر رکھی تھی۔قیس بن هيقم امارت عبد اللہ بن خازم کے حوالے کر کے حضرت عبد اللہ بن عامر کے پاس مدد اور کمک کے لیے چلے۔کیونکہ فوج کافی تھی جس کا مقابلہ تھا۔عبد اللہ بن خَازِم چار ہزار کی فوج لے کر قارن کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔عبد اللہ بن خَازِم نے چھ سو سپاہیوں کو ہر اول دستے کے طور پر آگے بھیجا اور ان کے پیچھے روانہ ہوئے۔وہ ہر اول دستہ آدھی رات کو قارن کے لشکر تک پہنچ گیا اور ان پر حملہ کر دیا۔اس اچانک حملے سے دشمن خوفزدہ ہو گیا اور جب مسلمانوں کی باقی فوج پہنچی تو دشمن کو بری طرح شکست ہوئی اور قارن قتل ہوا۔مسلمانوں نے تعاقب کیا اور بہت سے لوگوں کو قتل اور گرفتار کر کے قیدی بنالیا۔671 حضرت عثمان کے دور میں بر صغیر پاک وہند میں اسلام پہنچ گیا۔امام ابو یوسف کتاب الخراج میں امام زہری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ مصر اور شام حضرت عمرؓ کے زمانے میں فتح ہوئے اور افریقیہ اور خراسان اور سندھ کا کچھ علاقہ حضرت عثمان کے دور میں فتح ہوا۔672 بر صغیر میں اسلام کی آمد کے متعلق ایک روایت یوں ملتی ہے۔673 حضرت عثمان کے عہد میں حضرت عبید اللہ بن معمر کو فوج کا ایک دستہ دے کر مکران اور سندھ کی طرف بھیجا گیا۔فتوحات مکر ان میں انہوں نے خوب بہادری کے جوہر دکھائے۔بعد ازاں اس نواح کے مفتوحہ علاقوں کی امارت ان کے سپر د ہوئی۔3 حضرت مُجاشع بن مسعود سلیمی کے متعلق لکھا ہے کہ حضرت مُجاشع نے موجودہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اسلامی فوج کے ایک دستہ کی کمان کرتے ہوئے مخالفین اسلام سے جہاد کیا۔مؤرخین کے نزدیک اس زمانے میں کابل کا شمار بلاد ہند میں ہو تا تھا۔حضرت مجا شغنے حضرت عثمان کے