اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 335 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 335

حاب بدر جلد 3 335 حضرت عثمان بن عفان معاملہ ان چھ افراد کے ذمہ ہو گا جو رسول اللہ صلی العلیم سے اس حالت میں جدا ہوئے جبکہ آپ ان سے راضی تھے۔علی بن ابو طالب اور آپ کے نظیر زبیر بن عوام، عبد الرحمن بن عوف اور آپ کے نظیر عثمان بن عفان، طلحہ بن عبید اللہ اور آپ کے نظیر سعد بن مالک۔پھر آپ نے فرمایا خبر دار ! میں تم سب کو فیصلہ کرنے میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے اور تقسیم میں انصاف اختیار کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ابو جعفر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے انتخاب خلافت کے لیے مجلس شوری کے اراکین سے کہا کہ اپنے اس معاملے میں باہم مشورہ کرو۔پھر اگر دونوں طرف دو دو ووٹ ہوں تو دوبارہ مشورہ کرو اور اگر چار اور دو ووٹ ہوں تو پھر جس کے ووٹ زیادہ ہوں اسے اختیار کرو۔زید بن اسلم اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا اگر دونوں طرف تین تین ووٹ ہوں تو جس طرف حضرت عبد الرحمن بن عوف ہوں گے اس طرف کے لوگوں کی سننا اور اطاعت کرنا۔عبد الرحمن بن سعید بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر زخمی ہوئے تو آپ نے فرمایا صہیب تم لوگوں کو تین دن تک نماز پڑھائیں گے۔یعنی کہ صہیب کو امام الصلوۃ مقرر فرمایا۔پھر فرمایا: اپنے اس معاملے میں یعنی خلافت کے بارے میں مشاورت کرو اور یہ معاملہ ان چھ افراد کے سپر د ہے۔پھر اس کے بعد جو تمہاری مخالفت کرے اس کی گردن اڑا دو۔حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے اپنی وفات سے کچھ دیر قبل حضرت ابو طلحہ کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا اے ابو طلحہ اتُو اپنی قوم انصار میں سے پچاس افراد کو لے کر ان اصحاب شوری کے پاس چلے جاؤ اور انہیں تین دن تک نہ چھوڑنا یہاں تک کہ وہ اپنے میں سے کسی کو امیر منتخب کر لیں۔اے اللہ ! تو ان پر میر ا خلیفہ ہے۔اسحاق بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ حضرت عمر کی قبر تیار ہوتے وقت کچھ دیر رکے اور اس کے بعد اصحاب شوری کے ساتھ ہی رہے۔پھر جب ان اصحاب شوریٰ نے اپنا معاملہ حضرت عبد الرحمن بن عوف کے سپرد کر دیا اور کہا کہ وہ جسے چاہیں امیر مقرر کر دیں تو حضرت ابو طلحہ اس وقت تک حضرت عبد الرحمن بن عوف کے گھر کے دروازے پر رہے جب تک کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف نے حضرت عثمان کی بیعت نہ کر لی۔حضرت سلمہ بن ابو سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سب سے پہلے حضرت عبد الرحمن بن عوف نے حضرت عثمان کی بیعت کی۔پھر اس کے بعد حضرت علی نے۔حضرت عمررؓ کے آزاد کردہ غلام عمر بن عمیرہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ سب سے پہلے حضرت علیؓ نے حضرت عثمان کی بیعت کی۔اس کے بعد لوگوں نے پے در پے آپ کی بیعت کی۔649 صحیح بخاری میں حضرت عمر کی آخری بیماری میں اپنے بعد میں آنے والے خلیفہ کو نصائح اور مجلس شوری کے حوالے سے جو تفصیل بیان ہوئی ہے اس کا ذکر یوں ملتا ہے کہ لوگوں نے کہا امیر المومنین ! وصیت کر دیں۔کسی کو خلیفہ مقرر کر جائیں۔انہوں نے فرمایا میں اس خلافت کا حقدار ان چند لوگوں میں