اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 334
حاب بدر جلد 3 334 حضرت عثمان بن عفان کہ مشکلات پیدا ہوں گی۔بعض دفعہ لوگ دو دو دفعہ لے جائیں گے۔باقاعدہ انتظام ہونا چاہیے۔کھاتے بننے چاہئیں۔اس پر حضرت عمرؓ نے حضرت عثمان کی رائے کو اختیار فرمایا اور مردم شماری کر کے لوگوں کے نام رجسٹروں میں محفوظ کرنے کا کام عمل میں آیا۔645 اور پھر باقاعدہ اس کے حساب سے ہر ایک کو امداد ملنی شروع ہوئی۔حضرت عثمان کی خلافت کی بابت آنحضرت علی علیم کی پیشگوئی بھی ہے۔اس کا پہلے اشارة قمیص پہننے کا اور منافقوں کا قمیص اتارنے کا ذکر ہو چکا ہے۔حضرت ابوبکرہ سے یہ روایت ہے کہ نبی کریم علی ایم نے ایک دن فرمایا تم میں سے کسی نے خواب دیکھی ہے۔ایک شخص نے کہا۔میں نے دیکھا گویا ایک ترازو آسمان سے اترا اور آپ صلی علیہ کم کو اور حضرت ابو بکر کو تولا گیا تو آپ ابو بکر سے بھاری نکلے۔پھر حضرت عمر اور حضرت ابو بکر مو تولا گیا تو حضرت ابو بکر بھاری نکلے۔پھر حضرت عمر اور حضرت عثمان کو تولا گیا تو حضرت عمرؓ بھاری نکلے۔پھر ترازو اٹھا لیا گیا تو ہم نے رسول اللہ صلی علیکم کے چہرے سے نا پسندیدگی دیکھی۔آپ نے اس خواب پر خوشی کا اظہار نہیں کیا۔بڑی نا پسندیدگی ہوئی۔646 الله سة 647 ایک اور روایت یوں ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی العلیم نے فرمایا آج کی رات ایک صالح شخص کو خواب میں دکھایا گیا کہ حضرت ابو بکر کو رسول اللہ صلی اللی نام سے جوڑ دیا گیا ہے اور حضرت عمر کو حضرت ابو بکر سے اور حضرت عثمان کو حضرت عمرؓ سے۔حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی علیم کے پاس سے اٹھ کر آئے تو ہم نے کہا کہ مرد صالح سے مراد تو رسول اللہ صلی علی کرم ہیں اور بعض کا بعض سے جوڑے جانے کا مطلب یہ ہے کہ یہی لوگ اس امر یعنی دین کے والی ہوں گے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی علیکم کو مبعوث فرمایا ہے۔حضرت سمرہ بن جندب بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یارسول اللہ ! میں نے دیکھا گویا کہ آسمان سے ایک ڈول لٹکایا گیا۔پہلے حضرت ابو بکر آئے تو اس کی دونوں لکڑیاں پکڑ کر اس میں سے تھوڑا سا پیا۔پھر عمر آئے تو اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں اور انہوں نے خوب سیر ہو کر پیا۔پھر عثمان آئے اور اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں اور خوب سیر ہو کر پیا۔پھر حضرت علی آئے اور اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں تو وہ چھلک گیا اور اس میں سے کچھ ان کے اوپر بھی پڑ گیا۔648 خلافت کی ترتیب کے لحاظ سے یہ بھی اشارہ تھا اور علی کے ساتھ جو سارا دور گزرا وہ مشکلات کا ہی تھا۔اس طرف اشارہ تھا کہ صحیح طرح پینے کا موقع نہیں ملا۔حضرت عثمان کے انتخاب خلافت کے لیے جو مجلس شوری قائم ہوئی تھی اس بارے میں حضرت مسور بن مخرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب اپنے اوپر ہونے والے حملے کے بعد جب ابھی ٹھیک تھے تو آپ سے بار بار درخواست کی جاتی کہ آپ کسی کو خلیفہ مقرر فرما دیں لیکن آپ انکار فرماتے۔ایک روز آپ منبر پر تشریف لائے اور چند کلمات کہے اور فرمایا اگر میں مر جاؤں تو تمہارا