اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 15
حاب بدر جلد 3 پہلی بار خانہ کعبہ میں نماز 15 حضرت عمر بن خطاب لیکن اس کے بعد پھر خانہ کعبہ میں نماز بھی ادا کی گئی جیسا کہ پہلے بھی اس کا ذکر ہو چکا ہے۔اس کو حضرت مصلح موعودؓ نے بھی بیان فرمایا ہے کہ ابتدائے زمانہ اسلام میں صرف دو شخص مسلمانوں میں بہادر سمجھے جاتے تھے۔ایک حضرت عمر اور دوسرے امیر حمزہ۔جب یہ دونوں اسلام میں داخل ہوئے تو انہوں نے رسول کریم صلی الی یکم سے درخواست کی کہ ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ ہم گھروں میں چھپ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کریں۔جب کعبہ پر ہمارا بھی حق ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے اس حق کو حاصل نہ کریں اور کھلے بندوں اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کریں۔چنانچہ رسول کریم صلی الی یکم جو کفار کو فساد کے جرم سے بچانے کے لئے گھر میں نماز ادا کر لیا کرتے تھے خانہ کعبہ میں عبادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس وقت آپ کے ایک طرف حضرت عمر تلوار کھینچ کر چلے جارہے تھے اور دوسری طرف امیر حمزہ اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ ہم نے خانہ کعبہ میں علی الاعلان نماز ادا کی۔حضرت عمر پر مصائب اور تکالیف 2966 جب حضرت عمرؓ کے اسلام کی خبر قریش میں پھیلی تو وہ سخت جوش میں آگئے اور اسی جوش کی حالت میں انہوں نے حضرت عمر کے مکان کا محاصرہ کر لیا۔حضرت عمر باہر نکلے تو ان کے ارد گر دلوگوں کا ایک بڑا مجمع اکٹھا ہو گیا اور قریب تھا کہ بعض جو شیلیے ان پر حملہ آور ہو جائیں لیکن حضرت عمرہ بھی نہایت دلیری کے ساتھ ان کے سامنے ڈٹے رہے۔آخر اسی حالت میں مکہ کارئیس اعظم عاص بن وائل وہاں آ گیا اور اس ہجوم کو دیکھ کر اس نے اپنے سردارانہ انداز میں آگے بڑھ کر پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں نے کہا: عمر صابی ہو گیا ہے۔اس رئیس نے موقع شناسی سے کام لیتے ہوئے کہا: تو خیر ، پھر بھی اس ہنگامے کی ضرورت نہیں ہے۔میں عمر کو پناہ دیتا ہوں۔اس آواز کے سامنے عربی دستور کے مطابق لوگوں کو خاموش ہونا پڑا اور وہ آہستہ آہستہ منتشر ہو گئے۔اس کے بعد حضرت عمرؓ چند دن تک امن میں رہے کیونکہ عاص بن وائل کی پناہ کی وجہ سے کوئی ان سے تعرض نہیں کر تا تھا لیکن اس حالت کو حضرت عمرؓ کی غیرت نے زیادہ دیر تک برداشت نہ کیا۔چنانچہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا کہ انہوں نے عاص بن وائل سے جا کر کہہ دیا کہ میں تمہاری پناہ سے نکلتا ہوں۔حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد میں مکہ کی گلیوں میں بس پیٹنا اور بیٹتا ہی رہتا تھا۔یعنی لڑائی جھگڑا ہی رہتا تھا مگر حضرت عمر نے کبھی کسی کے سامنے آنکھ نیچی نہیں کی۔50 حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ دیکھور سول کریم صلی یکم کے کتنے کتنے شدید دشمن تھے مگر پھر ان میں کیسی تبدیلی پیدا ہوئی۔نہ صرف ان کی اصلاح ہوئی بلکہ وہ روحانیت کے ایسے اعلیٰ مقام پر پہنچ گئے کہ ان کا پہچانا بھی مشکل ہو گیا۔یعنی بالکل کا یا پلٹ گئی۔پہچانے نہیں جاتے تھے کہ یہ وہی لوگ 30