اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 324
حاب بدر جلد 3 324 حضرت عثمان بن عفان جان پر کھیل جائے گا مگر پیچھے نہیں ہٹے گا اور اس بیعت کا خاص پہلو یہ تھا کہ یہ عہد و پیمان صرف منہ کا ایک وقتی اقرار نہیں تھا جو عارضی جوش کی حالت میں کر دیا گیا ہو بلکہ دل کی گہرائیوں کی آواز تھی جس کے پیچھے مسلمانوں کی ساری طاقت ایک نقطۂ واحد پر جمع تھی۔معاہدہ صلح حدیبیہ الله سة جب قریش کو اس بیعت کی اطلاع پہنچی تو وہ خوف زدہ ہو گئے اور نہ صرف حضرت عثمان اور ان کے ساتھیوں کو آزاد کر دیا بلکہ اپنے ایلچیوں کو بھی ہدایت دی کہ اب جس طرح بھی ہو مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کر لیں مگر یہ شرط ضرور رکھی جائے کہ اس سال کی بجائے مسلمان آئندہ سال آکر عمرہ بجا لائیں اور بہر حال اب واپس چلے جائیں۔دوسری طرف آنحضرت صلی کم بھی ابتدا سے یہ عہد کر چکے تھے کہ میں اس موقع پر کوئی ایسی بات نہیں کروں گا جو حرم المحرم اور بیت اللہ کے احترام کے خلاف ہو اور چونکہ آپ کو خدا نے یہ بشارت دے رکھی تھی کہ اس موقع پر قریش کے ساتھ مصالحت آئندہ کامیابیوں کا پیش خیمہ بننے والی ہے اس لیے گویا فریقین کے لحاظ سے یہ ماحول مصالحت کا ایک نہایت عمدہ ماحول تھا اور اسی ماحول میں سہیل بن عمر و آنحضرت صلی اللہ کرم کے پاس پہنچا اور آپ نے اسے دیکھتے ہی فرمایا کہ اب معاملہ آسان ہوتا نظر آتا ہے۔صلح کی گفتگو شروع ہوئی جب تسہیل بن عمر و آنحضرت صلی للی کم کے سامنے آیا تو آپ نے اسے دیکھتے ہی فرمایا جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ سہیل آتا ہے۔اب خدا نے چاہاتو معاملہ سہل ہو جائے گا۔بہر حال سہیل آیا اور آتے ہی آنحضرت صلی یم سے کہنے لگا۔آؤ جی۔اب لمبی بحث جانے دو۔ہم معاہدے کے لیے تیار ہیں۔آنحضرت صلی علیم نے فرمایا: ہم بھی تیار ہیں اور اس ارشاد کے ساتھ ہی آپ نے اپنے سیکرٹری حضرت علی کو بلوایا۔اس معاہدہ کی شرائط حسب ذیل تھیں۔آنحضرت صلی اہم اور آپ کے ساتھی اس سال واپس چلے جائیں۔آئندہ سال وہ مکہ میں آکر رسم عمرہ ادا کر سکتے ہیں مگر سوائے نیام میں بند تلوار کے کوئی ہتھیار ساتھ نہ ہو اور مکہ میں تین دن سے زیادہ نہ ٹھہریں۔اگر کوئی مرد مکہ والوں میں سے مدینہ جائے تو خواہ وہ مسلمان ہی ہو آنحضرت صلی الم اسے مدینہ میں پناہ نہ دیں اور واپس لوٹا دیں۔لیکن اگر کوئی مسلمان مدینہ کو چھوڑ کر مکہ میں آجائے تو اسے واپس نہیں لوٹایا جائے گا۔ایک اور روایت میں یہ ہے کہ اگر مکہ والوں میں سے کوئی شخص اپنے ولی یعنی گارڈین (guardian) کی اجازت کے بغیر مدینہ آجائے تو اسے واپس لوٹا دیا جائے گا۔قبائل عرب میں سے جو قبیلہ چاہے مسلمانوں کا حلیف بن جائے اور جو چاہے اہل مکہ کا۔یہ معاہدہ فی الحال دس سال تک کے لیے ہو گا اور اس عرصہ میں قریش اور مسلمانوں کے درمیان جنگ بند رہے گی۔اس معاہدہ کی دو نقلیں کی گئیں اور بطور گواہ کے فریقین کے متعدد معززین نے ان پر دستخط کیے۔مسلمانوں کی طرف سے دستخط کرنے والوں میں حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان جو اس وقت