اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 318 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 318

حاب بدر جلد 3 318 حضرت عثمان بن عفان سے تقریباً دو منزل کے راستہ پر واقع ہے۔(کہا جاتا ہے کہ ایک منزل نو میل کی ہوتی ہے ) تو آپ کے خبر رساں نے واپس آکر آپ کی خدمت میں اطلاع دی کہ قریش مکہ بہت جوش میں ہیں اور آپ کو روکنے کا پختہ عزم کیے ہوئے ہیں۔حتی کہ ان میں سے بعض نے اپنے جوش اور وحشت کے اظہار کے لیے چیتوں کی کھالیں پہن رکھی ہیں اور جنگ کا پختہ عزم کر کے بہر صورت مسلمانوں کو روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ قریش نے اپنے چند جانباز سواروں کا ایک دستہ خالد بن ولید کی کمان میں جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے آگے بھجوا دیا ہے اور یہ کہ یہ دستہ اس وقت مسلمانوں کے قریب پہنچا ہوا ہے اور اس دستہ میں عکرمہ بن ابو جہل بھی شامل ہے وغیرہ وغیرہ۔آنحضرت صلی علیم نے یہ خبر سنی تو تصادم سے بچنے کی غرض سے صحابہ کو حکم دیا کہ مکہ کے معروف راستے کو چھوڑ کر دائیں جانب ہوتے ہوئے آگے بڑھیں۔چنانچہ مسلمان ایک دشوار گزار اور کٹھن رستہ پر پڑ کر سمندر کی جانب ہوتے ہوئے آگے بڑھنا شروع ہوئے۔جب آپ صلی ہی کی اس نئے رستہ پر چلتے ہوئے حدیبیہ کے قریب پہنچے جو مکہ سے ایک منزل یعنی صرف نو میل کے فاصلہ پر ہے اور حدیبیہ کی گھاٹیوں پر سے مکہ کی وادی کا آغاز ہو جاتا ہے تو آپ کی اونٹنی جو الفضوا کے نام سے مشہور تھی اور بہت سے غزوات میں آپ کے استعمال میں رہ چکی تھی یکلخت پاؤں پھیلا کر زمین پر بیٹھ گئی اور باوجود اٹھانے کے اٹھنے کا نام نہ لیتی تھی۔صحابہ نے عرض کیا کہ شاید یہ تھک گئی ہے مگر آنحضرت صلی اللہ ہم نے فرمایا: نہیں نہیں۔یہ تھکی نہیں اور نہ ہی اس طرح تھک کر بیٹھ جانا اس کی عادت میں داخل ہے بلکہ حق یہ ہے کہ جس بالا ہستی نے اس سے پہلے اصحاب فیل کے ہاتھی کو مکہ کی طرف بڑھنے سے روکا تھا اسی نے اب اس اونٹنی کو بھی روکا ہے۔پس خدا کی قسم !مکہ کے قریش جو مطالبہ بھی حرم کی عزت کے لیے مجھ سے کریں گے میں اسے قبول کروں گا۔یہ آپ نے فرمایا۔اس کے بعد آپ نے اپنی اونٹنی کو پھر اٹھنے کی آواز دی اور خدا کی قدرت کہ اس دفعہ وہ جھٹ اٹھ کر چلنے کو تیار ہو گئی۔اس پر آپ اسے وادی حدیبیہ کے پر لے کنارے کی طرف لے گئے اور وہاں ایک چشمہ کے پاس ٹھہر کر اونٹنی سے نیچے اتر آئے اور اسی جگہ آپ کے فرمانے پر صحابہ نے ڈیرے ڈال دیے۔پھر یہاں آگے ذکر آتا ہے کہ قریش کے ساتھ صلح کی گفتگو کا آغاز کس طرح ہوا۔جب آنحضرت صلی علیم نے حدیبیہ کی وادی میں پہنچ کر قیام فرمایا تو اس وادی کے چشمہ کے پاس قیام کیا۔جب صحابہ اس جگہ ڈیرے ڈال چکے تو قبیلہ خُزاعہ کا ایک نامور رئیس بدیل بن ورقا نامی جو قریب ہی کے علاقہ میں آباد تھا اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ آنحضرت صلی علی یم کی ملاقات کے لیے آیا اور اس نے آپ سے عرض کیا کہ ملکہ کے رو سا جنگ کے لیے تیار کھڑے ہیں اور وہ کبھی بھی آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔آپ نے فرمایا کہ ہم تو جنگ کی غرض سے نہیں آئے بلکہ صرف عمرہ کی نیت سے آئے ہیں اور افسوس ہے کہ باوجود اس کے کہ قریش مکہ کو جنگ کی آگ نے جلا جلا کر خاک کر رکھا ہے مگر پھر بھی یہ لوگ باز نہیں آتے اور میں تو ان لوگوں کے ساتھ اس سمجھوتہ کے لیے بھی تیار ہوں کہ وہ