اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 312
حاب بدر جلد 3 قائم ہوا تھا۔614 ا 312 حضرت عثمان بن عفان ایک روایت کے مطابق حضرت عثمان کی مواخات نبی کریم صلی للی یکم نے اپنے ساتھ قائم فرمائی تھی۔چنانچہ طبقات کبری میں لکھا ہے کہ ابن لبیبه بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان بن عفان محصور ہو گئے یعنی جب دشمنوں نے آپ کو محصور کر دیا، ہر طرح کی پابندی لگا دی تو آخری دنوں میں آپ نے ایک اونچی کو ٹھڑی کے روشن دان سے جھانک کیر لوگوں سے پوچھا کیا تم میں طلحہ ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ہے۔آپ نے انہیں فرمایا کہ تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، اللہ تعالیٰ کا کہا کہ کیا آپ کو علم ہے ناں کہ جب رسول اللہ صلی علی ایم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی تو اس وقت آپ صلی الیکم نے اپنے ہمراہ میری مؤاخات قائم فرمائی تھی۔یعنی آنحضرت صلی اللہ ہم نے حضرت عثمان کو اپنے ساتھ مؤاخات میں رکھا تھا۔اس پر حضرت طلحہ نے کہا کہ واللہ یہ درست ہے۔اس پر حضرت طلحہ سے پوچھا گیا حضرت عثمان کے گھر کو گھیرے ہوئے جو ارد گرد مخالفین تھے انہوں نے ان سے پوچھا، جواب طلبی کی کہ تم نے یہ کیا کیا؟ تو حضرت طلحہ نے بڑی جرات سے جواب دیا کہ حضرت عثمان نے مجھے سے قسم لے کر پوچھا تھا اور جس بات کے بارے میں پوچھا تھا وہ میری آنکھوں کے سامنے ہوئی تھی تو کیا میں اس کی شہادت نہ دیتا؟ 615 میں تو جھوٹ نہیں بول سکتا تھا۔جو تم نے مخالفت کرنی ہے کر لو۔حضرت رقیہ کی وفات اور حضرت ام کلثوم سے شادی کے واقعہ کا ذکر اس طرح ملتا ہے کہ عبد اللہ بن مُكيف بن حارثه انصاری بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی علوم غزوہ بدر کے لیے روانہ ہوئے تو حضرت عثمان کو اپنی بیٹی حضرت رقیہ کے پاس چھوڑا۔وہ بیمار تھیں اور انہوں نے اس روز وفات پائی جس دن حضرت زید بن حارثہ مدینہ کی طرف اس فتح کی خوشخبری لے کر آئے جو بدر میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی ا تم کو عطا فرمائی تھی۔الله رسول اللہ صلی علیم نے حضرت عثمان کے لیے بدر کے مال غنیمت میں حصہ مقرر فرمایا اور آپ کا حصہ جنگ بدر میں شامل ہونے والوں کے برابر تھا۔رسول اللہ صلی علیم نے حضرت رقیہ کی وفات کے بعد حضرت عثمان بن عفانؓ کے ساتھ اپنی صاحبزادی حضرت ام کلثوم کی شادی کر دی۔616 حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی الی یوم حضرت عثمان سے مسجد کے دروازے پر ملے اور فرمانے لگے کہ عثمان یہ جبریل ہیں انہوں نے مجھے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ام کلثوم کا نکاح رُقیہ جتنے حق مہر پر اور اس سے تمہارے حسن سلوک پر تمہارے ساتھ کر دیا ہے۔617 یعنی دوسری بیٹی کا نکاح بھی اللہ تعالیٰ نے کہا کہ حضرت عثمان سے کر دیا جائے۔الله حضرت عائشہ نے بیان فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی علیکم نے ام کلثوم کی شادی حضرت عثمان سے کی تو آپ نے حضرت ام ایمن سے فرمایا میری بیٹی ام کلثوم کو تیار کر کے عثمان کے ہاں چھوڑ آؤ اور اس کے