اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 257
باب بدر جلد 3 257 حضرت عمر بن خطاب آنحضرت صلی اللہ علم کا؟ اس بارے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ یعنی حضرت ابن عمر نبی کریم صلی ال نیم کے ساتھ کسی سفر میں تھے اور حضرت عمرؓ کے ایک اونٹ پر سوار تھے جو منہ زور تھا اور نبی صلی یکم سے ، ان کی سواری سے آگے بڑھ جاتا تھا۔اور ان کے والد حضرت عمرؓ ا نہیں کہتے تھے کہ عبد اللہ ! نبی صلی علیم سے آگے کسی کو بھی نہیں بڑھنا چاہیے۔یہ تمہاری سواری جو ہے یہ آنحضرت صلی علیکم کی سواری سے آگے نہیں بڑھنی چاہیے۔نبی صلی اللی کم نے حضرت عمر سے فرمایا۔میرے پاس یہ فروخت کر دو۔حضرت عمرؓ نے کہا یہ تو آپ ہی کا ہے۔آنحضرت صلی علی کرم نے اسے خرید لیا اور اس کے بعد فرمایا: عبد اللہ ! یہ اب تمہارا ہی ہے اس سے تم جو چاہو کام لو۔452 لے کے پھر تحفہ دے دیا۔حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علی یکم جب سورج ڈھل گیا تو تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھی اور منبر پر کھڑے ہوئے اور موعودہ گھڑی کا ذکر کیا اور فرمایا اس میں بڑے بڑے واقعات ہوں گے۔پھر فرمایا: جو شخص کچھ پوچھنا چاہے تو پوچھ لے۔تم جو کچھ بھی مجھ سے پوچھو گے میں تمہیں بتاؤں گا جب تک کہ میں اپنے اس مقام میں ہوں تو لوگ بہت روئے اور آنحضرت صلی الی یکم نے کئی دفعہ فرمایا کہ مجھ سے پوچھو۔اس پر حضرت عبد اللہ بن حذافہ سہمی اٹھے اور کہا میر اباپ کون ہے ؟ تو آپ نے فرما یا حذافہ۔پھر آپ نے بہت دفعہ فرمایا کہ مجھ سے پوچھو۔اس پر حضرت عمرؓ اپنے گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے اور کہا: رَضِيْنَا بِاللهِ رَبَّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا کہ ہم راضی ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اسلام ہمارا دین اور محمد ہمارے نبی ہیں۔آپ صلی امید کم خاموش ہو گئے۔پھر فرمایا جنت اور آگ ابھی اس دیوار کی چوڑائی میں میرے سامنے پیش کی گئی تھیں تو میں نے ایسا خیر وشر کبھی بھی نہیں دیکھا۔453 بخاری کی ہی ایک اور روایت میں اس طرح بھی ذکر ملتا ہے۔حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ کم سے بعض ایسی باتوں کے متعلق پوچھا گیا جن کو آپ نے ناپسند کیا۔جب آپ سے بہت سوال کیے گئے تو آپ صلی اللہ ہم کو غصہ آیا اور آپ نے لوگوں سے کہا: پوچھو مجھ سے جس کے متعلق بھی چاہو۔تب ایک شخص نے کہا میرا باپ کون ہے؟ فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے۔اس کے بعد ایک اور اٹھا اور اس نے کہا یا رسول اللہ امیر اباپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تمہارا باپ شیبہ کا آزاد کردہ غلام سالم ہے۔جب حضرت عمرؓ نے اس تغیر کو دیکھا جو آپ کے چہرے پر تھا تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اللہ عزوجل کے حضور اپنی غلطی سے رجوع کرتے ہیں۔4 پھر بخاری کی ہی ایک دوسری روایت بھی ہے۔یہ زہری سے روایت ہے۔اس میں آتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک نے مجھے بتلایا کہ رسول اللہ صلی علی یکم باہر نکلے تو حضرت عبد اللہ بن حذافہ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میر اباپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا: تمہارا باپ حذافہ ہے۔پھر آپ نے بہت دفعہ فرمایا: پوچھو مجھ سے۔مگر حضرت عمرؓ نے دوزانو ہو کر عرض کیا 454