اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 253 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 253

تاب بدر جلد 3 253 حضرت عمر بن خطاب شہید ہو گئے ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اور لڑائیوں میں بھی قاری نہ مارے جائیں اور اس طرح قرآن کا بہت سا حصہ ضائع ہو جائے گا سوائے اس کے کہ تم قرآن کو ایک جگہ جمع کر دو اور میری یہ رائے ہے کہ آپ قرآن کو ایک جگہ جمع کریں۔یعنی حضرت عمر نے کہا: میری یہ رائے ہے کہ یہ قرآن کو جمع کریں۔اس پر حضرت ابو بکر نے عمر کو فرمایا کہ میں ایسی بات کیسے کروں جو رسول اللہ صلی علیم نے نہیں کی۔عمرؓ نے کہا کہ اللہ کی قسم ! آپ کا یہ کام اچھا ہے۔پھر حضرت ابو بکڑ نے فرمایا کہ عمر مجھے بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے میرا سینہ کھول دیا اور اب میں بھی وہی مناسب سمجھتا ہوں جو عمرؓ نے مناسب سمجھا یعنی اس کی تدوین ہو جانی چاہیے اور پھر زید بن ثابت نے اس کی تدوین کا کام شروع کیا۔اس کی تفصیل جیسا کہ میں نے کہا پہلے میں بیان کر چکا ہوں۔حضرت عمرؓ کے قرآن کریم حفظ کرنے کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیکم کے مہاجر صحابہ میں سے مندرجہ ذیل کا حفظ ثابت ہے۔ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، سعد، ابن مسعود، حذیفہ ، سالم، ابوہریرہ، عبد اللہ بن سائب، عبد اللہ بن عمر عبد اللہ بن عباس۔حضرت عمر کی موافقات 441<< 440 یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بعض و جیبیں جو آنحضرت صلی علیہ تم پر ہوئیں ان کی وجہ حضرت عمر کی موافقت ہے یا حضرت عمر کی ان وحیوں سے موافقت ہے۔صحاح ستہ کی روایت میں حضرت عمر کی موافقات کا ذکر جن احادیث میں آیا ہے وہاں تین باتوں میں موافقت کا ذکر ملتا ہے تاہم اگر صرف صحاح ستہ کی ان روایات کو یکجائی صورت میں دیکھا جائے تو ان کی تعد اد سات تک بنتی ہے۔صحیح بخاری میں حضرت عمرؓ سے ایک روایت مروی ہے کہ حضرت عمرؓ نے کہا تین باتوں میں میری رائے میرے رب کے منشا کے مطابق ہوئی۔میں نے کہا یا رسول اللہ ! اگر ہم مقام ابراہیم کو نماز گاہ بنا لیں۔یہ میں نے کہا تو آیت وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِمَ مُصَلَّى نازل ہوئی۔اور پردے کا حکم۔میں نے کہا تو پردے کا حکم نازل ہوا۔میں نے کہا یا رسول اللہ ! اگر آپ اپنی بیویوں کو پردہ کرنے کا حکم دیں کیونکہ ان سے بھلے بھی اور برے بھی باتیں کرتے ہیں تو پردے کی آیت نازل ہوئی۔پھر نبی صلی الی یم کی بیویوں نے بوجہ غیرت آپ صلی تعلیم کے متعلق ایکا کیا تو حضرت عمر کہتے ہیں میں نے انہیں کہا یعنی ان بیویوں کو جن میں ان کی بیٹی بھی تھیں کہ اگر تمہیں آنحضرت صلی علی کم طلاق دے دیں تو مجھے امید ہے کہ ان کا رب تم سے بہتر بیویاں آنحضرت صلی علیکم کو بدلہ میں دے گا۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی عَسى ربةٌ إِن طَلَقَكُونَ أَنْ يُبْدِلَةٌ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُن یعنی قریب ہے کہ اگر وہ تمہیں طلاق دے دے تو اس کا رب تمہارے بدلے اس کے لیے تم سے بہتر ازواج لے آئے۔442 صحیح مسلم میں ایک روایت ہے کہ حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ تین