اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 252 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 252

اصحاب بدر جلد 3 252 حضرت عمر بن خطاب ضرور عمر بن خطاب ہوتے۔433 یعنی یہ فوری بعد نبوت کی بات ہے ورنہ تو آنے والے مسیح اور مہدی کو آنحضرت علی ایم نے خود نبی اللہ کہہ کر فرمایا ہے۔134 رسول اللہ صلی الم کا حضرت عمر کو محدث کہنا۔435 اس بارے میں حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا کہ یقیناً پہلی امتوں میں محدثین ہوتے تھے اور اگر میری امت میں کوئی ہے تو وہ عمر بن خطاب ہیں۔5 حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ا ہم نے فرمایا: تم سے پہلے جو امتیں تھیں ان میں ایسے لوگ تھے جو محدث ہوا کرتے تھے اور اگر میری امت میں سے کوئی ایسا ہے تو وہ عمر نہیں۔محدث وہ ہیں جن کو کثرت سے الہام اور کشوف ہوتے ہیں۔پھر فرمایا: تم سے پہلے جو بنی اسرائیل سے ہوئے ہیں ان میں ایسے آدمی آچکے ہیں جن سے اللہ کلام کیا کرتا تھا بغیر اس کے کہ وہ نبی ہوتے تھے۔اگر میری امت میں بھی ان میں سے کوئی ایسا ہے تو وہ عمر نہیں۔436 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” خدا تعالیٰ ہمیشہ استعاروں سے کام لیتا ہے اور طبع اور خاصیت اور استعداد کے لحاظ سے ایک کا نام دوسرے پر وارد کر دیتا ہے۔جو ابراہیم کے دل کے موافق دل رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ابراہیم ہے اور جو عمر فاروق کا دل رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک عمر فاروق ہے۔کیا تم یہ حدیث پڑھتے نہیں کہ اگر اس امت میں بھی محدث ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کلام کرتا ہے تو وہ عمر ہے۔اب کیا اس حدیث کے یہ معنی ہیں کہ محد ثیت حضرت عمر پر ختم ہو گئی ؟ ہر گز نہیں۔بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کی روحانی حالت عمر کی روحانی حالت کے موافق ہو گئی وہی ضرورت کے وقت پر محدث ہو گا۔“ پھر آپ فرماتے ہیں ” چنانچہ اس عاجز کو بھی ایک مرتبہ اس بارے میں الہام ہوا تھا فِيكَ مَاذَةٌ فَارُ وَقِيَّةٌ - 43744 مکمل الہام اس طرح ہے کہ انتَ مُحَدَّتُ اللهِ فِيْكَ مَاذَةٌ فَارُوْقِيَّةٌ۔“ یعنی ”تو محدث اللہ ہے تجھ 43866 میں مادہ فاروقی ہے۔تدوین قرآن کی تجویز رض جیسا کہ پہلے بھی میں گذشتہ کئی خطبات میں سے ایک خطبہ میں بیان کر چکا ہوں کہ حضرت عمرؓ نے حفاظت اور تدوین قرآن کی تجویز دی تھی۔اس بارے میں یہاں پہ بھی ذکر کرتا ہوں۔439 حضرت ابو بکر کے دور میں جنگ یمامہ میں جب ستر حفاظ قرآن شہید ہوئے تو اس بارے میں حضرت زید بن ثابت انصاری روایت کرتے ہیں کہ جب یمامہ کے لوگ شہید کیے گئے تو حضرت ابو بکر نے مجھے بلا بھیجا اور اس وقت ان کے پاس حضرت عمرؓ تھے۔حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا: عمر میرے پاس آئے ہیں اور انہوں نے کہا یمامہ کی جنگ میں لوگ بہت