اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 249 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 249

محاب بدر جلد 3 249 حضرت عمر بن خطاب کو تیسر ا خلیفہ مقرر کیا جنہوں نے 644ء سے 656ء تک حکومت کی۔پھر یہ لکھتا ہے کہ یہ حضرت عمرؓ کا ہی دس سالہ دور خلافت تھا جس میں عربوں نے سب سے اہم فتوحات حاصل کیں۔آپ کی خلافت کے تھوڑے عرصہ ہی میں عرب فوج نے شام اور فلسطین پر حملہ کیا جو اس وقت باز نطینی سلطنت کا حصہ تھے۔جنگ پر موک 636ء میں عربوں نے بازنطینی فوجوں کے خلاف ایسی فتح حاصل کی جس سے ان کی کمر ٹوٹ گئی۔دمشق بھی اسی سال فتح ہوا اور یروشلم نے بھی دو سال بعد ہتھیار ڈال دیے۔641ء تک عرب تمام فلسطین اور شام کو فتح کر چکے تھے اور موجودہ دور کے ترکی میں پیش قدمی کر رہے تھے۔639ء میں عرب فوجیں مصر میں داخل ہو گئیں جو کہ بازنطینی حکومت کے ہی ماتحت تھا۔تین سال کے اندر اندر عرب مکمل طور پر مصر پر فتح پاچکے تھے۔عراق پر عربوں کے حملے جو اس وقت فارسیوں کی ساسانی سلطنت کا ایک حصہ تھاوہ حضرت عمر کے مسند خلافت پر فائز ہونے سے بھی پہلے شروع ہو چکے تھے۔عربوں کی کلیدی فتح جنگ قادسیہ 637ء میں کامیابی کی صورت میں حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں ہوئی۔641 ء تک تمام عراق عربوں کے قبضے میں آچکا تھا اور یہیں پر بس نہیں، عرب فوجوں نے فارس پر بھی حملہ کر دیا تھا اور نہاوند کے معرکہ میں 642ء عیسوی میں انہوں نے آخری ساسانی بادشاہوں کی فوجوں کو فیصلہ کن شکست دے دی تھی۔جس وقت عمر کی وفات ہوئی یعنی 644ء میں مغربی ایران کا بیشتر حصہ قبضہ میں آچکا تھا۔حضرت عمر کی وفات پر بھی عرب فوجوں کا جوش ماند نہ پڑا۔مشرق میں انہوں نے جلد ہی فارس کی فتح مکمل کرلی جبکہ مغرب میں شمالی افریقہ میں قدم بڑھاتے رہے۔پھر لکھتا ہے کہ جس قدر عمر کی فتوحات کی وسعت کی اہمیت ہے اسی قدر ان فتوحات کی پائیداری بھی اہم ہے۔اگر چہ ایران کی آبادی نے اسلام قبول کر لیا لیکن بالآخر انہوں نے عربوں کی حکمرانی سے آزادی حاصل کر لی لیکن شام، عراق اور مصر نے ایسا نہیں کیا۔وہ یکسر عرب تہذیب میں ڈھل گئے اور آج تک یہی صور تحال ہے۔پھر لکھتا ہے کہ بلاشبہ عمر کو پالیسیاں بنانی پڑیں تا کہ وہ اس عظیم سلطنت کا انتظام کر سکیں جو ان کی فوجوں نے فتح کی تھیں۔انہوں نے فیصلہ کیا کہ عربوں کو ان علاقوں میں جو انہوں نے فتح کیے ہیں ایک خصوصی فوجی مقام حاصل ہو اور وہ مقامی لوگوں سے الگ چھاؤنیوں میں رہیں۔محکوم لوگوں کو اپنے مسلمان فاتحین کو جو زیادہ تر عرب تھے ایک جزیہ دینا ہو تا تھا۔باقی انہیں مکمل امن و امان حاصل تھا۔اس کے علاوہ ان پر کوئی اور ذمہ داری عائد نہیں ہوتی تھی۔خصوصاً انہیں اسلام قبول کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جاتا تھا۔مندرجہ بالا بات سے یہ ثابت ہے کہ عربوں کی مہمات مقدس جنگوں سے زیادہ قومی نوعیت کی تھیں۔اگر چہ مذہبی عصر مکمل طور پر مفقود نہیں تھا۔عمر کی کامیابیاں بلا شبہ متاثر کن ہیں۔محمد صلی علیہم کے بعد آپ اسلام کے پھیلاؤ میں کلیدی شخصیت تھے۔آپؐ کی تیز رفتار فتوحات کے بغیر شاید یہ ممکن نہ ہو تا کہ اسلام اتنا پھیلتا جتنا آج وہ پھیلا ہوا ہے۔مزید یہ کہ حضرت عمرؓ کے دور میں فتح کیے گئے علاقے اب تک