اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 248 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 248

اصحاب بدر جلد 3 248 حضرت عمر بن خطاب کی سیڑھیوں پر فقیروں کے ساتھ سوتے دیکھا۔معیشت منبع ہوتی ہے آزاد خیالی کا اور آمدنی میں اضافے کے باعث عمر اس قابل ہوئے کہ مخلصین کی ماضی اور حال کی خدمات کے باعث ان کے لیے وظیفہ کا منصفانہ اور مستقل نظام قائم کر سکیں۔اپنے وظیفہ سے بے نیاز تھے۔آپ نے عباس (نبی صلی علیکم کے چا) کے لیے سب سے پہلا اور ضرورت کے لیے کافی پچیس ہزار درہم یا چاندی کے ٹکڑے و ظیفہ مقرر کیا۔جنگ بدر میں شامل ہونے والے بزرگ صحابہ میں سے ہر ایک کے لیے پانچ ہزار درہم کا وظیفہ مقرر کیا۔محمدصلی علیکم کے دیگر صحابہ کو سالانہ انعام کے طور پر تین ہزار چاندی کے ٹکڑوں سے نوازا گیا۔423 ہے۔یہ عظ مائیکل ایچ ہارٹ نے اپنی کتاب The Hundred میں تاریخ کی سو بااثر شخصیات کا ذکر کیا ہے اور پہلے نمبر پر حضرت محمد مصطفی صلی میں کم کو لیا ہے اور اس کتاب میں باون ویں نمبر پر حضرت عمر کا ذکر کیا یہ لکھتا ہے کہ عمر بن خطاب مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ اور غالباً مسلمانوں کے سب سے ترین خلیفہ تھے۔آپ محمد صلی الی یوم کے نوجوان ہم عصر اور انہی کی طرح مکہ میں پیدا ہوئے تھے۔آپ کی پیدائش کا سال معلوم نہیں مگر شاید 586ء کے قریب کا زمانہ تھا۔آغاز میں عمر محمد علی می نم کے اور آپ کے نئے دین کے سب سے سخت دشمنوں میں سے تھے تاہم اچانک عمر نے اسلام قبول کر لیا اور اس کے بعد اس کے مضبوط ترین حمایتیوں میں سے ہو گئے۔سینٹ پال کے عیسائی ہونے سے اس کی مشابہت حیرت انگیز ہے۔عمرؓ بھی محمد صلی علیم کے قریب ترین مشیروں میں سے ہو گئے اور آپ کی وفات تک ایسے ہی رہے۔632ء میں محمد صلی ال یکم بغیر اپنا جانشین نامزد کیے فوت ہو گئے۔عمرؓ نے فوری طور پر ابو بکرؓ کے عہدہ خلافت کے لیے حمایت کی جو رسول اللہ صلی الل علم کے قریبی ساتھی اور خسر تھے جس کی وجہ سے اقتدار کی کشمکش ٹل گئی۔یہ تو اپنے انداز میں لکھ رہا ہے اور یہ ماننے کو تیار نہیں کہ کس طرح لوگوں نے اکٹھے ہو کر آپ کو خلیفہ منتخب کیا لیکن بہر حال دنیاوی نظر سے دیکھتے ہوئے کہتا ہے کہ ان کے خسر کی بیعت کرلی جس کی وجہ سے اقتدار کی کشمکش مل گئی اور اس سے ابو بکر اس قابل ہوئے کہ ان کو عام طور پر پہلا خلیفہ مانا گیا یعنی کہ محمد صلی اللہ علم کا جانشین۔ابو بکر ایک کامیاب راہنما تھے لیکن وہ صرف دو سال تک خلیفہ کے طور پر خدمت بجالانے کے بعد فوت ہوئے۔البتہ انہوں نے اپنے بعد معین طور پر عمر کو اپنا جانشین نامزد کیا۔عمر نبی کریم علی ایم کے خسر تھے اس وجہ سے ایک دفعہ پھر اقتدار کی جنگ مل گئی۔پھر یہ اس کو دنیاوی رنگ دینا چاہتا ہے۔لیکن تعریف بہر حال کر رہا ہے۔عمر 634ء میں خلیفہ بنے اور 644ء تک اقتدار یعنی خلافت میں رہے جب انہیں ایک فارسی غلام نے مدینہ میں شہید کر دیا۔بستر مرگ پر عمر نے چھ لوگوں کی ایک کمیٹی کو مقرر کیا جو ان کا جانشین منتخب کر لیں اور اس دفعہ ایک دفعہ پھر مسلح اقتدار کی جنگ کو ٹال دیا۔اس کمیٹی نے عثمان