اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 242
اصحاب بدر جلد 3 242 حضرت عمر بن خطاب نے فرط مسرت سے مجھے اپنے کندھوں پر اٹھا لیا اور خدا تعالیٰ کی قسم ! میں اپنے گھر تک لوگوں کے سروں اور کندھوں پر پہنچا اور انہوں نے مجھے زمین پر قدم تک نہیں رکھنے دیا۔اس روایت سے ثابت ہے کہ صحابہ کا طریق عمل بھی یہی رہا ہے کہ وہ غیر مسلم کے مسلم قاتل کو سزائے قتل دیتے تھے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ خواہ کسی ہتھیار سے کوئی شخص مارا جائے وہ مارا جائے گا۔اسی طرح یہ بھی ثابت ہو تا ہے کہ قاتل کو گرفتار کرنے والی اور اس کو سزا دینے والی حکومت ہی ہے کیونکہ اس روایت سے ظاہر ہے کہ عبید اللہ بن عمرؓ کو گرفتار بھی حضرت عثمان نے ہی کیا اور اس کو قتل کے لیے ھر مزان کے بیٹے کے سپرد بھی انہوں نے ہی کیا تھا۔نہ ہر مز ان کے کسی وارث نے اس پر مقدمہ چلایا اور نہ گرفتار کیا۔اس جگہ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اس شبہ کا ازالہ بھی کر دینا ضروری ہے کہ قاتل کو سزا دینے کے لیے آیا مقتول کے وارثوں کے سپرد کرنا چاہیے جیسا کہ حضرت عثمان نے کیا یا خود حکومت کو سزا دینی چاہیے۔سو یا د رکھنا چاہیے کہ یہ معاملہ ایک جزوی معاملہ ہے اس لیے اس کو اسلام نے ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق عمل کرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔قوم اپنے تمدن اور حالات کے مطابق جس طریق کو زیادہ مفید دیکھے اختیار کر سکتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دونوں طریق ہی خاص خاص حالات 399 میں مفید ہوتے ہیں۔حضرت عمر فما عجز وانکسار یہ وضاحت کرنے کے بعد اب میں حضرت عمرؓ کے کچھ اور واقعات کا ذکر کرتا ہوں۔وفات کے وقت حضرت عمرؓ کے الحاح اور عجز و انکسار کا کیا حال تھا؟ اس بارے میں ان کے بیٹے روایت کرتے ہیں کہ : انہوں نے اپنے بیٹے کو کہا کہ میرے کفن میں میانہ روی سے کام لینا۔اگر اللہ کے پاس میرے لیے خیر ہو گی تو مجھے اس سے اچھے لباس سے بدل دے گا۔اگر میں اس کے سوا ہوں گا تو مجھ سے چھین لے گا اور چھینے میں تیزی کرے گا اور یہ بھی کہ میری قبر کے متعلق بھی میانہ روی سے کام لینا۔اگر اللہ کے پاس میرے لیے اس میں خیر ہے تو اس کو اتنا وسیع کر دے گا جہاں تک میری نظر جائے گی اور اگر میں اس کے سوا ہوا تو وہ اسے مجھ پر تنگ کر دے گا کہ میری پسلیاں ٹوٹ جائیں گی۔اور پھر میرے جنازے کے ساتھ کسی عورت کو نہ لے کر جانا۔میری ایسی تعریف نہ بیان کرنا جو مجھ میں نہیں ہے کیونکہ اللہ مجھے زیادہ جانتا ہے۔اور جب تم مجھے لے جانے لگو تو چلنے میں جلدی کرنا۔اگر میرے لیے اللہ کے پاس خیر ہے تو تم مجھے اس چیز کی طرف بھیجے ہو جو میرے لیے زیادہ بہتر ہے اور اگر اس کے سوا ہو تو تم اپنی گردن سے اس شر کو ٹال دو گے جو تم اٹھائے ہوئے ہو۔400 اس کے علاوہ یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے وصیت کی تھی کہ مجھے مسک یعنی کستوری وغیرہ سے غسل نہ دینا۔201