اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 237 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 237

اصحاب بدر جلد 3 237 حضرت عمر بن خطاب اس کی آمدن کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جتنی آمد کے اندازہ پر قسط مقرر ہوئی تھی اس سے کئی گنازیادہ آمد وہ پیدا کرتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ اس قدر آمد کے مقابلہ میں تمہاری قسط بہت معمولی ہے اسے کم نہیں کیا جاسکتا۔اس فیصلہ سے اسے سخت غصہ آیا اور اس نے سمجھا کہ میں چونکہ ایرانی ہوں اس لئے میرے خلاف فیصلہ کیا گیا ہے اور میرے مالک کا عرب ہونے کی وجہ سے لحاظ کیا گیا ہے۔چنانچہ اس غصہ میں اس نے دوسرے ہی دن خنجر سے آپ پر حملہ کر دیا اور آپ انہی زخموں کے نتیجہ میں شہید ہو گئے۔“391 حضرت مصلح موعود مزید بیان کرتے ہیں کہ ”دنیا میں دو ہی چیزیں راستی سے پھیرنے کا موجب ہوتی ہیں یا تو انتہائی بغض یا پھر انتہائی محبت۔انتہائی بغض بسا اوقات معمولی واقعہ سے پیدا ہو جاتا ہے۔حضرت عمرؓ کے وقت دیکھو کتنے معمولی واقعہ سے بغض بڑھا جس نے عالم اسلامی کو کتنا بڑا نقصان پہنچایا ہے۔میں سمجھتا ہوں اس واقعہ کا اثر اب تک چلتا جا رہا ہے۔حضرت عمرؓ کے وقت ایک مقدمہ آپ کے پاس آیا۔کسی شخص کا غلام کما تا بہت تھا لیکن مالک کو دیتا کم تھا۔حضرت عمرؓ نے اس غلام کو بلایا اور اسے کہا کہ مالک کو زیادہ دیا کرو۔اس وقت چونکہ پیشہ ور کم ہوتے تھے اس لئے لوہاروں اور نجاروں کی بڑی قدر ہوتی تھی۔وہ غلام آٹا پیسنے کی چکی بنایا کرتا تھا اور اس طرح کافی کماتا تھا۔حضرت عمر نے ساڑھے تین آنے اس کے ذمہ لگا دیئے کہ مالک کو ادا کیا کرے۔یہ کتنی قلیل رقم ہے مگر اس کا خیال تھا کہ حضرت عمرؓ نے غلط فیصلہ کیا ہے اس پر اس کے دل میں بغض بڑھنا شروع ہوا۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے اسے کہا کہ ہمیں بھی چھکی بنا دو۔اس پر کہنے لگا ایسی چکی بنادوں گا جو خوب چلے گی۔یہ سن کر کسی نے حضرت عمرؓ سے کہا آپ کو دھمکی دے رہا ہے۔“ یہ پہلا جو واقعہ ہے اس سے لگتا ہے کہ اسی سے ملتا جلتا ہے یا وہی واقعہ ہے اور اسی کا واقعہ ہے۔بہر حال ہے اسی غلام کا۔”آپ نے کہا الفاظ سے تو یہ بات ظاہر نہیں ہوتی۔“ پہلی روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے خود کہا تھا کہ یہ دھمکی دے رہا ہے۔”اس نے کہا لہجہ دھمکی آمیز تھا۔آخر ایک دن حضرت عمر نماز پڑھ رہے تھے کہ اس غلام نے آپ کو منجر مار کر قتل کر دیا۔“ حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ ”وہ عمر جو کروڑوں انسانوں کا بادشاہ تھا، جو بہت وسیع مملکت کا حکمران تھا، جو مسلمانوں کا بہترین رہنما تھا ساڑھے تین آنے پر مار دیا گیا مگر بات یہ ہے کہ جن کی طبیعت میں بغض اور کینہ ہوتا ہے وہ ساڑھے تین آنے یا دو آنے نہیں دیکھتے وہ اپنی پیاس بجھانا چاہتے ہیں۔ان کی طبیعت بغض کے لئے وقف ہوتی ہے۔ایسی حالت میں وہ نہیں دیکھتے کہ ہمارے لئے اور دوسروں کے لئے کیا نتیجہ ہو گا۔حضرت عمرؓ کے قاتل سے جب دریافت کیا گیا کہ تو نے یہ سفاکانہ فعل کیوں کیا تو اس نے کہا انہوں نے میرے خلاف فیصلہ کیا تھا میں نے اس کا بدلہ لیا ہے۔پہلے یہ تفصیل اس طرح بیان نہیں ہوئی۔ہو سکتا ہے کہ اس وقت اس کو پکڑتے ہوئے تھوڑا سا وقت ملا ہو تو اس میں اس نے یہ کہہ دیا ہو کہ میں نے یہ قتل اس لئے کیا ہے اور پھر خودکشی بھی کر لی۔