اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 234
محاب بدر جلد 3 234 حضرت عمر بن خطاب کر رہے ہیں اور ان کے دلائل میں کچھ وزن معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ سازشی گروہ یہیں رکتا نہیں بلکہ پھر حضرت عثمان بھی اسی طرح کی ایک سازش کا شکار ہوتے ہیں اور اس سے اس شبہ کو مزید تقویت ملتی ہے کہ اسلام کی بڑھتی ہوئی ترقی اور غلبہ کو روکنے کے لیے اور اپنے انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بیرونی عناصر کی ایک سازش کے تحت حضرت عمر کو شہید کیا گیا تھا۔واللہ اعلم۔387 صحیح مسلم میں مذکور ہے کہ حضرت ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ جب میرے والد پر حملہ ہوا تو میں ان کے پاس موجود تھا۔لوگوں نے ان کی تعریف کی اور کہا جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا۔اللہ تعالٰی آپ کو بہترین بدلہ دے۔آپؐ نے فرمایا: میں رغبت رکھنے والا بھی ہوں اور ڈرنے والا بھی ہوں۔لوگوں نے کہا کہ آپ خلیفہ مقرر کر دیجیے۔آپ نے کہا: کیا میں تمہارا بوجھ زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی اٹھاؤں ؟ میں چاہتا ہوں کہ اس میں میر احصہ برابر کا ہو۔یعنی نہ مجھ پر کوئی گرفت ہو نہ مجھے کچھ ملے۔اگر میں کسی کو جانشین بناؤں تو انہوں نے بھی جانشین بنایا جو مجھ سے بہتر تھے یعنی حضرت ابو بکر۔بنا دوں تو کوئی حرج نہیں ہے۔اگر میں تمہیں بغیر جانشین مقرر کرنے کے چھوڑ جاؤں تو وہ تمہیں بغیر جانشین مقرر کرنے کے چھوڑ گئے تھے جو مجھ سے بہتر تھے یعنی دوسری مثال رسول اللہ صلی علی کمکی دی کہ آپ تھے جنہوں نے جانشین مقرر نہیں کیا تھا۔حضرت عبد اللہ کہتے ہیں کہ جب آپ نے رسول اللہ صل الی لر کا ذکر کیا تو میں جان گیا کہ آپ انشین مقرر نہیں کریں گے۔صحیح مسلم کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت حفصہ کے پاس گیا۔انہوں نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے والد جانشین مقرر کرنے والے نہیں۔وہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔انہوں نے یعنی حضرت حفصہ نے فرمایا وہ ایسا کریں گے۔وہ کہتے ہیں میں نے قسم کھائی کہ حضرت عمرؓ سے دوبارہ بات کروں گا۔کہتے ہیں میں صبح تک خاموش رہا اور آپ سے کوئی بات نہیں کی۔وہ کہتے ہیں کہ میر احال یہ تھا کہ گویا میں اپنی قسم کی وجہ سے پہاڑ اٹھانے والا ہوں۔میں لوٹا اور ان کے پاس گیا۔انہوں نے مجھ سے لوگوں کا حال دریافت کیا یعنی حضرت عمر نے اور میں نے آپ کو بتایا کہ وہ کہتے ہیں۔پھر میں نے جو وہ لوگ کہتے ہیں وہ باتیں بتائیں۔پھر میں نے آپ سے کہا کہ میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا ہے اور میں نے قسم کھائی ہے کہ آپ سے وہ بات ضرور کہوں گا۔ان کا، لوگوں کا خیال ہے کہ آپ جانشین مقرر نہیں کریں گے۔بات یہ ہے کہ اگر کوئی آپ کے اونٹوں کو چرانے والا ہو یا بکریوں کا چرواہا ہو پھر وہ آپ کے پاس آئے اور انہیں چھوڑ دے تو آپ دیکھیں گے کہ اس نے ان کو ضائع کر دیا۔پس لوگوں کی نگہبانی تو زیادہ ضروری ہے۔کہتے ہیں حضرت عمرؓ نے میری بات سے اتفاق کیا اور کچھ دیر کے لیے اپنا سر جھکایا۔پھر آپ نے سر اٹھایا اور میری طرف توجہ کی اور فرمایا: اللہ عزوجل اپنے دین کی حفاظت کرے گا۔اگر میں کسی کو خلیفہ نہ