اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 232 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 232

اصحاب بدر جلد 3 232 حضرت عمر بن خطاب اسی طرح ایک اور سیرت نگار ڈاکٹر محمد حسین ہیکل اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ واقعہ یہ ہے کہ جب مسلمان ایرانیوں اور عیسائیوں پر غالب آئے تھے اور جب سے ان ملکوں کی زمام حکومت انہوں نے سنبھالی تھی اور شہنشاہ ایران کو عبرت ناک شکست دے کر فرار پر مجبور کیا تھا اس وقت سے ایرانی، یہودی اور عیسائی اپنے دلوں میں عربوں کے خلاف عموماً اور حضرت عمر کے خلاف خصوصا کینہ و بغض کے جذبات چھپائے بیٹھے تھے۔اس وقت لوگوں نے اپنی گفتگو میں اس کینہ اور بغض کا ذکر بھی کیا تھا اور انہیں حضرت عمر کی وہ بات بھی یاد آئی تھی جو انہوں نے یہ معلوم کرنے کے بعد کہ ان پر حملہ کرنے والا ابولولوہ ایک ایرانی ہے کہی تھی۔حضرت عمر نے فرمایا تھا۔میں تم کو منع کرتا تھا کہ ہمارے پاس کسی بے دین کو گھسیٹ کر نہ لانا لیکن تم نے میری بات نہ مانی۔مدینہ میں ان عجمی بے دینوں کی تعداد مختصر سی لیانا تم تھی لیکن ایک جماعت تھی جن کے دل غضب اور انتقام سے لبریز اور جن کے سینے کینہ و بغض کی آگ سے دہک رہے تھے اور کون جانے، ہو سکتا ہے ان لوگوں نے سازش کی ہو اور ابو لولوہ کا یہ فعل اسی سازش کا نتیجہ ہو جس کا جال ان دشمنانِ اسلام نے اپنے کینہ اور دشمنی کی پیاس بجھانے کے لیے بنا تھا اور جس کے متعلق وہ سمجھ رہے تھے کہ اس طرح عربوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کر کے مسلمانوں کے بازو کمزور کیے جاسکتے ہیں۔حضرت عمرؓ کے صاحبزادوں کو حقیقت حال سے باخبر ہونے کی سب سے زیادہ بے چینی تھی۔وہ اس راز سے پردہ اٹھا کر اس کی تہ تک پہنچ سکتے تھے اگر ابولولو فیروز خود کشی نہ کرتا۔لیکن اس نے مخود کشی کر لی اور اس راز کو اپنے ساتھ قبر میں لے گیا تو کیا بات ختم ہو گئی اور اب اس راز کو پانے کی کوئی سبیل نہیں رہی؟ یہ لکھنے والا مؤرخ لکھتا ہے جو اس سازش کو بے نقاب کرنے کے حق میں ہے کہ یہ سازش تھی کہ نہیں ؟ بلکہ کارکنان قضا و قدر نے چاہا کہ عرب کا ایک سردار اس راز سے واقف ہو جائے اور اس سازش کی طرف رہنمائی کرے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے جب وہ چھری دیکھی جس سے حضرت عمر کو شہید کیا گیا تھا تو فرمایا: میں نے یہ چھری کل هرمزان اور جھینہ کے پاس دیکھی تھی۔میں نے ان سے پوچھا تم اس چھری سے کیا کرو گے؟ وہ بولے کہ گوشت کاٹیں گے کیونکہ ہم گوشت کو ہاتھ نہیں لگاتے اور حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر نے فرمایا کہ میں حضرت عمرؓ کے قاتل ابو لُؤْلُوہ کے پاس سے گزرا۔جُفّینه اور هرمزان اس کے ساتھ تھے اور وہ آپس میں چپکے چپکے باتیں کر رہے تھے۔تمہیں دفعتا ان کے پاس پہنچاتو وہ بھاگے اور ایک خنجر ان کے درمیان گر پڑا جس کے دو پھل تھے اور دستہ بیچ میں تھا۔دیکھو وہ شجر کیسا ہے جس سے حضرت عمر کو شہید کیا گیا ہے؟ لوگوں نے دیکھا تو واقعی وہی خنجر تھا جو حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر نے بتایا تھا۔پھر تو اس معاملے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا۔یہ لکھنے والا کہتا ہے کہ دونوں کے دونوں بچے گواہ ہیں بلکہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ قابل اعتبار ہیں اور گواہی دے رہے ہیں کہ جس چھری سے حضرت عمر کو شہید کیا گیا وہ ھرمزان اور جھینہ کے پاس تھی۔ان میں سے ایک گواہ کا کہنا ہے کہ اس نے قاتل ابو لولون کو قتل کرنے سے پہلے دونوں سے سازش کرتے دیکھا ہے