اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 227
اصحاب بدر جلد 3 227 حضرت عمر بن خطاب عورتیں بھی ان کے ساتھ آئیں۔جب ہم نے ان کو دیکھا تو ہم چلے گئے۔وہ ان کے پاس اندر گئیں اور کچھ دیر ان کے پاس روتی رہیں۔پھر جب کچھ مردوں نے اندرونی حصہ میں آنے کی اجازت مانگی تو وہ مردوں کے آتے ہی اندر چلی گئیں اور ہم اندر سے ان کے رونے کی آواز سنتے رہے۔لوگوں نے کہا امیر المومنین وصیت کر دیں۔کسی کو خلیفہ مقرر کر جائیں۔انہوں نے کہا میں اس خلافت کا حق دار ان چند لوگوں میں سے بڑھ کر اور کسی کو نہیں پاتا کہ رسول اللہ صلی الی یکم ایسی حالت میں فوت ہوئے کہ آپ ان سے راضی تھے۔اور انہوں نے حضرت علی، حضرت عثمانؓ، حضرت زبیر حضرت طلحہ ، حضرت سعد اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کا نام لیا اور کہا عبد اللہ بن عمرؓ تمہارے درمیان موجود رہے گا لیکن اس امر یعنی خلافت میں اس کا کوئی حق نہیں ہو گا۔اگر خلافت سعد کو مل گئی تو پھر وہی خلیفہ ہو ورنہ جو بھی تم میں سے امیر بنایا جائے وہ سعد سے مدد لیتا ر ہے کیونکہ میں نے ان کو اس لیے معزول نہیں کیا تھا کہ وہ کسی کام کے کرنے سے عاجز تھے اور نہ اس لیے کہ کوئی خیانت کی تھی۔نیز فرمایا میں اس خلیفہ کو جو میرے بعد ہو گا پہلے مہاجرین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ ان کے حقوق ان کے لیے پہنچا نہیں۔ان کی عزت کا خیال رکھیں۔میں انصار کے متعلق بھی بھلائی کی وصیت کرتا ہوں جو مدینہ میں پہلے سے رہتے تھے اور مہاجرین کے آنے سے پہلے ایمان قبول کر چکے تھے۔جو ان میں سے نیک کام کرنے والا ہو اسے قبول کیا جائے اور جو اُن میں سے قصور وار ہو اس سے در گزر کیا جائے اور میں سارے شہروں کے باشندوں کے ساتھ عمدہ سلوک کرنے کی ان کو وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ اسلام کے پشت پناہ ہیں اور مال کے حصول کا ذریعہ ہیں اور دشمن کے کڑھنے کا موجب ہیں اور یہ کہ ان کی رضا مندی سے ان سے وہی لیا جائے جو ان کی ضرورتوں سے بچ جائے۔اور میں اُس کو بدوی عربوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں یعنی آئندہ کے خلیفہ کو کیونکہ وہ عربوں کی جڑ ہیں اور اسلام کا مادہ ہیں یہ کہ ان کے اموال میں سے جو زائد ہے وہ لیا جائے اور پھر ان کے محتاجوں کو لوٹایا جائے اور میں اس کو اللہ کے ذمہ اور اس کے رسول صلی الم کے ذمہ کی وصیت کرتاہوں کہ ان کے عہدوں کو ان کے لیے پورا کیا جائے اور ان کی حفاظت کے لیے جنگ کی جائے اور ان کی طاقت سے زیادہ ان پر بوجھ نہ ڈالا جائے۔جب آپ فوت ہو گئے تو ہم ان کو لے کر نکلے اور پیدل چلنے لگے تو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے حضرت عائشہ صمو السلام علیکم کہا اور کہا عمر بن خطاب اجازت مانگتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کو اندر لے آؤ۔چنانچہ ان کو اندر لے جایا گیا اور وہاں ان کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھ دیے گئے۔جب ان کی تدفین سے فراغت ہوئی تو وہ آدمی جمع ہوئے جن کا حضرت عمرؓ نے نام لیا تھا تا کہ انتخاب خلافت ہو سکے اور پھر وہ انگلی کارروائی ہوئی۔صحیح بخاری کی جو روایت بیان کی گئی تھی اس سے یہ معلوم ہو تا تھا کہ حضرت عمر ثیر جب حملہ ہوا تو 380