اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 217
اصحاب بدر جلد 3 217 حضرت عمر بن خطاب چار پلیٹیں جو سینے اور پشت اور دونوں رانوں پر باندھی جاتی تھیں) آہنی دستانے ، جھلم (خود پر لگی ہوئی لوہے کی کڑیاں یا نقاب) موزے جو ہر ایرانی سپاہی کا لازمی ملبوس جنگ تھا۔اس میں سے عربوں کے پاس صرف زرہ تھی اور وہ بھی اکثر چمڑے کی ہوتی تھی۔ان کا یہ سارا پروٹیکشن (protection) کا سامان لوہے کا کا تھا اور عربوں کے پاس اگر کچھ چھوٹا موٹا تھا بھی تو وہ چمڑے کا تھا۔رکاب لوہے کی بجائے لکڑی کی ہوتی تھی۔آلات جنگ میں گُرز اور گمند سے عرب بالکل آشنا نہیں تھے۔گر ز ایک ہتھیار کا نام ہے جو اوپر سے گول اور موٹا ہوتا ہے اور نیچے دستہ لگا ہوتا ہے اور دشمن کے سر پر مارتے ہیں۔کمند پھندہ یا جال یا رسی۔عربوں کے پاس تیر تھے لیکن ایسے چھوٹے اور کم حیثیت تھے کہ قادسیہ کے معرکے میں ایرانیوں نے جب پہلے پہل عربوں کے ان تیروں کو دیکھا تو سمجھا کہ تکلے یا سوئے ہیں۔مصنف علامہ صاحب ان کے اصلی اسباب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہمارے نزدیک اس سوال کا اصلی جواب صرف اس قدر ہے کہ مسلمانوں میں اس وقت پیغمبر اسلام صلی یکم کی بدولت جو جوش، عزم، استقلال، بلند حوصلگی، دلیری پیدا ہو گئی تھی اور جس کو حضرت عمر نے اور زیادہ قوی اور تیز کر دیا تھا۔روم اور فارس کی سلطنتیں عین عروج کے زمانے میں بھی اس کی فکر نہیں اٹھا سکتی تھیں۔البتہ اس کے ساتھ اور چیزیں بھی مل گئی تھیں جنہوں نے فتوحات میں نہیں بلکہ قیام حکومت میں مدد دی۔اس میں سب سے مقدم چیز مسلمانوں کی راست بازی اور دیانت داری تھی۔جو ملک فتح ہو تا تھا وہاں کے لوگ مسلمانوں کی راست بازی سچائی کے اس قدر گرویدہ ہو جاتے تھے کہ باوجود اختلاف مذہب کے ان کی سلطنت کا زوال نہیں چاہتے تھے۔یرموک کے معرکے سے قبل جنگ کے لیے جب مسلمان شام کے اضلاع سے نکلے تو تمام عیسائی رعایا نے پکارا کہ خدا تم کو پھر اس ملک میں لائے اور یہودیوں نے توریت ہاتھ میں لے کر کہا کہ ہمارے جیتے جی قیصر اب یہاں نہیں آسکتا۔رومیوں کی حکومت جو شام اور مصر میں تھی وہ بالکل جابرانہ تھی اس لیے رومیوں نے جو مقابلہ کیا وہ سلطنت اور فوج کے زور سے کیا، رعایا ان کے ساتھ نہیں تھی۔مسلمانوں نے جب سلطنت کا زور توڑا تو آگے مطلع صاف تھا، کوئی روک نہیں تھی۔یعنی رعایا کی طرف سے کسی قسم کی مزاحمت نہیں ہوئی۔البتہ ایران کی حالت اس سے مختلف تھی۔وہاں سلطنت کے نیچے بہت سے بڑے بڑے رئیس تھے جو بڑے بڑے اضلاع اور صوبوں کے مالک تھے وہ سلطنت کے لیے نہیں بلکہ خود اپنی ذاتی حکومت کے لیے لڑتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ پایہ تخت کے فتح کر لینے پر بھی فارس میں ہر قدم پر مسلمانوں کو مزاحمتیں پیش آئیں لیکن عام رعا یا وہاں بھی مسلمانوں کی گرویدہ ہوتی جاتی تھی اور اس لیے فتح کے بعد بقائے حکومت میں ان سے بہت مدد ملتی تھی۔حکومت کے قیام میں مدد ملتی تھی۔ایک اور بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمانوں کا اوّل اوّل حملہ شام اور عراق پر ہوا اور دونوں مقامات پر کثرت سے عرب آباد تھے۔شام میں دمشق کا حاکم غسانی خاندان تھا جو برائے نام قیصر کا محکوم تھا۔عراق میں تخیی خاندان والے دراصل ملک کے مالک تھے گو کسریٰ کو خراج کے طور پر کچھ