اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 165 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 165

اصحاب بدر جلد 3 165 حضرت عمر بن خطاب 300 دریائے اردن کا پانی چھوڑ دیا جس سے ساری زمین دلدل بن گئی اور ایسے عبور کرنا دشوار ہو گیا۔10 بہر حال ہر قل نے دمشق کی امداد کے لیے جو فوجیں بھیجی تھیں وہ بھی دمشق تک نہ پہنچ سکی تھیں۔پانی کھولنے کی وجہ سے تمام راستے بند ہو گئے مگر مسلمان ثابت قدم رہے۔مسلمانوں کا استقلال دیکھ کر عیسائی صلح پر آمادہ ہوئے اور ابو عبیدہ کے پاس پیغام بھیجا کہ کوئی شخص سفیر بن کر آئے۔ابو عبیدہ نے حضرت معاذ بن جبل کو سفارت کے لیے بھیجا۔حضرت معاذ بن جبل نے ان کے سامنے اسلامی تعلیم پیش کی مگر انہوں نے یعنی دشمنوں نے اسے قبول نہ کیا۔دیگر امور کے علاوہ رومیوں نے حضرت معاذ کو یہ پیشکش کی کہ ہم تم کو بلقاء کا ضلع اور اردن کا وہ حصہ جو تمہاری زمین سے متصل ہے دیتے ہیں تم یہ ملک چھوڑ کر فارس چلے جاؤ۔پہلے خود ہی فوجیں اکٹھی کر رہے تھے جب دیکھا کہ ہارنے کا وقت آیا ہے تو یہ پیشکش کی۔حضرت معاذ نے انکار کیا اور اٹھ کے واپس چلے آئے کہ نہیں۔رومیوں نے براہ راست ابو عبیدہ سے گفتگو کرنی چاہی۔چنانچہ اس غرض سے ایک خاص قاصد بھیجا۔جس وقت وہ قاصد وہاں مسلمانوں کے کیمپ میں پہنچا تو ابو عبیدہ زمین پر بیٹھے ہوئے تھے اور ہاتھ میں تیر تھے جن کو الٹ پلٹ کر رہے تھے۔قاصد نے خیال کیا کہ سپہ سالار بڑے جاہ و حشم رکھتا ہو گا اور یہی اس کی شناخت کا ذریعہ ہو گا لیکن وہ جس طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا تھا سب ایک رنگ میں ڈوبے نظر آتے تھے۔آخر گھبرا کر پوچھا کہ تمہارا سر دار کون ہے ؟ لوگوں نے ابوعبیدہ کی طرف اشارہ کیا۔وہ حیران رہ گیا اور تعجب سے ان کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ کیا در حقیقت تم ہی سردار ہو ؟ ابوعبیدہ نے کہا ہاں۔قاصد نے کہا کہ ہم تمہاری فوج کو فی کس دو دو اشرفیاں دے دیں گے ، تم یہاں سے چلے جاؤ۔حضرت ابوعبیدہ نے انکار کیا۔قاصد اس پر بڑا ناراض ہوا اور اٹھ کر چلا گیا۔ابوعبیدہ نے اس کے تیور دیکھ کر فوج کو کمر بندی کا حکم دیا، تیار رہنے کا حکم دیا اور تمام حالات حضرت عمر کو لکھے۔رض رض حضرت عمر نے اجازت فرمائی کہ ٹھیک ہے پیش قدمی کرو کیونکہ رومی فوجیں اکٹھی ہو رہی ہیں اور حوصلہ دلایا کہ ثابت قدم رہو۔خدا تمہارا مددگار ہے۔ابو عبیدہ نے اسی دن کمر بندی کا حکم دے دیا تھا لیکن رومی مقابلے میں نہ آئے اور اگلی صبح پھر حضرت خالد بن ولید صرف سواروں کے ساتھ میدان میں گئے۔رومی لشکر بھی تیار تھا۔دونوں میں جنگ ہوئی۔مسلمانوں کی ثابت قدمی دیکھ کر رومی سپہ سالار نے زیادہ لڑنا بیکار سمجھا اور واپس جانا چاہا۔حضرت خالد نے پکارا۔رومی اپنا زور لگا چکے ہیں اب ہماری باری ہے۔اس کے ساتھ ہی مسلمانوں نے اچانک حملہ کیا اور رومیوں کو پسپا کر دیا۔عیسائی مدد کے انتظار میں لڑائی کو ٹال رہے تھے۔حضرت خالد ان کی چال سمجھ گئے تو انہوں نے حضرت ابو عبیدہ کی خدمت میں کہا کہ رومی ہم سے مرعوب ہو چکے ہیں حملے کا یہی وقت ہے۔چنانچہ اسی وقت اعلان کیا گیا کہ اگلے روز حملہ ہو گا فوج تیار ہو جائے۔رات کے پچھلے پہر حضرت ابوعبیدہ نے لشکر کو ترتیب دیا۔رومی لشکر کی تعداد تقریباً پچاس ہزار تھی۔