اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 137 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 137

محاب بدر جلد 3 137 حضرت عمر بن خطاب اس سے دریافت کیا کہ اس ملک میں تو اس خنجر سے کیا کام لیتا ہے یعنی یہ ملک تو امن کا ملک ہے اس میں ایسے ہتھیاروں کی کیا ضرورت ہے۔اس نے کہا کہ میں اس سے اونٹ ہنکانے کا کام لیتا ہوں۔جب وہ دونوں آپس میں باتیں کر رہے تھے تو اس وقت کسی نے ان کو دیکھ لیا اور جب حضرت عمر مارے گئے، شہید کیے گئے تو اس نے بیان کیا کہ میں نے خود ہر مز ان کو یہ خنجر فیروز کو پکڑاتے ہوئے دیکھا تھا۔اس پر گر مران کا بیٹا کہتا ہے کہ عبید اللہ جو حضرت عمرؓ کے چھوٹے بیٹے تھے انہوں نے جا کر میرے باپ کو قتل کر دیا۔جب حضرت عثمان خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مجھے بلایا اور عبید اللہ کو پکڑ کر میرے حوالے کر دیا اور کہا کہ اسے میرے بیٹے ! یہ تیرے باپ کا قاتل ہے اور تو ہماری نسبت اس پر زیادہ حق رکھتا ہے۔پس جا اور اس کو قتل کر دے۔میں نے اس کو پکڑ لیا اور شہر سے باہر نکلا۔راستہ میں جو شخص مجھے ملتا میرے ساتھ ہو جاتا لیکن کوئی شخص مقابلہ نہ کرتا۔وہ مجھ سے صرف اتنی درخواست کرتے تھے کہ میں اسے چھوڑ دوں۔پس میں نے سب مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا کہ کیا میر احق ہے کہ میں اسے قتل کر دوں؟ سب نے جواب دیا کہ ہاں تمہارا حق ہے کہ اسے قتل کر دو اور پھر عبید اللہ کو برابھلا بھی کہنے لگے کہ اس نے ایسا برا کام کیا ہے۔پھر میں نے دریافت کیا کہ کیا تم لوگوں کو حق ہے کہ اسے مجھ سے چھڑا لو ؟ انہوں نے کہا نہیں ہر گز نہیں اور پھر عبید اللہ کو برا بھلا کہا کہ اس نے بلا ثبوت اس کے باپ کو قتل کر دیا ہے۔اس پر میں نے خدا اور ان لوگوں کی خاطر اس کو چھوڑ دیا۔اتنی سفارشیں جب ہو گئیں۔پوچھ لیا، سوال جواب ہو گئے تو کہتے ہیں میں نے اللہ اور اس کے لوگوں کی خاطر اس کو چھوڑ دیا اور مسلمانوں نے فرطِ مسرت سے مجھے اس خوشی میں اپنے کندھوں پر اٹھا لیا اور خدا تعالیٰ کی قسم ! میں اپنے گھر تک لوگوں کے سروں اور کندھوں پر پہنچا اور انہوں نے مجھے زمین پر قدم تک نہیں رکھنے دیا۔اس روایت سے ثابت ہے کہ صحابہ کاطریق عمل بھی یہی رہا ہے کہ وہ غیر مسلم کے مسلم قاتل کو سزائے قتل دیتے تھے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ خواہ کسی ہتھیار سے کوئی شخص مارا جائے وہ مارا جائے گا۔اسی طرح یہ بھی ثابت ہو تا ہے کہ قاتل کو گرفتار کرنے والی اور اس کو سزا دینے والی حکومت ہی ہوتی ہے۔گو یہاں بھی یہ ہے کہ مسلمان ہو گیا تھا لیکن اگر یہ غیر مسلم بھی ہو تب بھی یہ ساری جو پچھلی باتیں بیان ہوئی ہیں ان سے بھی یہی لگتا ہے کہ غیر مسلم کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک ہو جیسا مسلمان کے قاتل کے ساتھ ہو گا۔خاص طور پہ جب معاہدہ ہوا ہو۔اسی طرح یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ قاتل کو گر فتار کرنے والی اور اس کو سزا دینے والی حکومت ہی ہے۔ہر شخص نہیں دے سکتا حکومت دیتی ہے کیونکہ اس روایت سے ظاہر ہے کہ عبید اللہ بن عمر کو گرفتار بھی حضرت عثمان نے ہی کیا تھا اور اس کو قتل کرنے کے لیے ہر مز ان کے بیٹے کے سپر د بھی انہوں نے ہی کیا تھا۔نہ ھرمزان کے کسی وارث نے اس پر مقدمہ چلایا اور نہ اس نے گر فتار کیا۔حضرت خلیفہ ثانی فرماتے ہیں کہ اس جگہ اس شبہ کا ازالہ کر دینا بھی ضروری معلوم ہو تا ہے کہ قاتل کو سزا دینے کے لیے آیا مقتول کے وارثوں کے سپر د کرنا چاہیے جیسا کہ حضرت عثمان نے کیا یا خود