اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 135
حاب بدر جلد 3 135 حضرت عمر بن خطاب گیا۔ھرمزان سے گفتگو شروع ہوئی۔حضرت عمرؓ نے کہا عہد شکنی اور دھوکا دہی کا انجام دیکھا ہے۔جو جنگ ہوئی تھی یا اس کے ساتھ لڑائی ہو رہی تھی، اس کی عہد شکنی کی وجہ سے ہورہی تھی اور دھوکا دینے کی وجہ سے ہو رہی تھی۔اس نے کہا جاہلیت میں جب خدا ہم دونوں میں سے کسی کے ساتھ نہ تھا تو ہم تم پر غالب تھے مگر اب خدا کی مدد تمہارے ساتھ ہے اس لیے اب تم غالب ہو۔ھرمزان نے حضرت عمرؓ کو یہ جواب دیا۔حضرت عمرؓ نے فرما یا زمانہ جاہلیت میں تم اس وجہ سے غالب تھے کہ تم میں اتحاد تھا اور ہم میں افتراق تھا۔ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ تم لوگ اکٹھے تھے اور ہم میں افتراق تھا۔پھر حضرت عمرؓ نے هرمزان سے پوچھا۔تم نے بار بار عہد شکنی کی اب تم کیا عذر کرتے ہو ؟ جیسا کہ میں نے کہا مسلمانوں نے ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ان سے جنگ کی تھی کیونکہ وہ لوگ جو تھے وہ پر امن ہمسائے کے طور پر رہنا نہیں چاہتے تھے۔هُرمزان نے کہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ آپ مجھے یہ بتانے سے پہلے ہی قتل نہ کر دیں۔حضرت عمرؓ نے کہا ڈرو نہیں۔اس پر ھرمزان نے پانی مانگا تو اس کے لیے ایک پرانے پیالے میں پانی لایا گیا۔ھرمزان نے کہا کہ میں اس طرح کے پیالے میں پانی نہیں پیوں گا خواہ میں پیاسا ہی مر جاؤں۔چنانچہ اسے اس کے شایان شان بر تن میں پانی دیا گیا تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ہر مران نے کہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ جب میں پانی پی رہا ہوں گا تو مجھے قتل کر دیا جائے گا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا جب تک تو پانی پی نہ لے تجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔یہ سن کر اس نے پانی زمین پر گرا دیا۔ہوشیار تھا، اس نے کہا اچھا پانی پینا اگر شرط ہے تو مسلمان تو وعدے کے پکے ہیں۔تو اس نے کہا میں پانی پیتی ہی نہیں اور پانی زمین پہ گرا دیا۔حضرت عمر نے کہا اسے دوبارہ پانی دو اور اسے پیاسا قتل نہ کیا جائے۔سزا تو اس کی یہی تھی عہد شکنی اور فتنہ و فساد اور مسلمانوں سے جنگ۔ھرمزان نے کہا مجھے پانی کی پیاس نہیں تھی میں تو اس طرح امان حاصل کرنا چاہتا تھا۔آخر وہ سچ بول پڑا۔اس کے بعد ھرمزان نے اسلام قبول کر لیا اور مدینہ میں ہی رہائش اختیار کرلی۔حضرت عمرؓ نے اس کا دو ہزار وظیفہ مقرر کر دیا۔222 عِقْدُ الْفَرِید میں لکھا ہے کہ جب هُرمزان کو حضرت عمرؓ کے پاس قیدی بنا کر لایا گیا تو آپ نے اسے اسلام کی دعوت دی لیکن هُرمزان نے انکار کر دیا۔حضرت عمر نے حکم دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔جب اسے قتل کیا جانے لگا تو اس نے کہا اے امیر المومنین ! اگر آپ مجھے پانی پلا دیں۔حضرت عمر نے پانی پلانے کا حکم دیا۔جب پانی کا بر تن اس کے ہاتھ میں رکھا گیا تو اس نے حضرت عمرؓ سے کہا کیا میں پانی پینے تک امن میں ہوں ؟ حضرت عمرؓ نے کہا ہاں۔اس پر ہر مُران نے پانی کا برتن ہاتھ سے پھینک دیا اور کہا کہ آپ اپنا وعدہ پورا کریں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں تجھے کچھ مہلت دیتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ تو کیسے عمل کرتا ہے۔جب اس سے تلوار دور کر دی گئی تو ھر مان نے کہا کہ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَدَ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُہ کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس