اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 110
اصحاب بدر جلد 3 110 حضرت عمر بن خطاب تاریخ طبری کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوعبیڈ کی بیوی کومہ نے جنگ سے قبل ایک خواب دیکھا تھا کہ ایک شخص آسمان سے ایک برتن میں جنت کا ایک مشروب لایا جس کو حضرت ابوعبید اور جبر بن ابوعبید نے پیا ہے۔اسی طرح ان کے خاندان کے چند لوگوں نے بھی پیا ہے۔دومہ نے یہ خواب اپنے شوہر سے بیان کی۔حضرت ابو عبید نے کہا کہ اس خواب کی تعبیر شہادت ہے۔اس کے بعد حضرت ابو عبید نے لوگوں کو وصیت کی کہ اگر میں شہید ہو جاؤں تو جبر سپہ سالار ہوں گے اور اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو فلاں فلاں شخص سپہ سالار ہو گا۔چنانچہ جس جس شخص نے خواب میں اس برتن سے مشروب پیا تھا ان کو حضرت ابوعبید نے ترتیب وار سپہ سالار مقرر کر دیا اور پھر فرمایا کہ اگر ابوالقاسم بھی شہید ہو جائیں تو پھر حضرت منگی تمہارے سپہ سالار ہوں گے۔دومہ کا یہ خواب حرف بہ حرف پورا ہوا۔اس جنگ میں حضرت ابو عبیدہ کے بعد علی الترتیب بیان کردہ چھ اشخاص ایک ایک کر کے علم امارت ہاتھ میں لیتے چلے گئے اور شہید ہوتے چلے گئے۔آٹھویں شخص حضرت تمنی تھے جنہوں نے اسلامی جھنڈے کو لے کر دوبارہ ایک پُر جوش حملے کا ارادہ کیا لیکن اسلامی لشکر کی صفیں بے ترتیب ہو گئی تھیں اور لوگوں نے مسلسل سات امیروں کو شہید ہوتے دیکھ کر بھاگنا شروع کر دیا تھا جبکہ کچھ دریا میں کو دگئے تھے۔حضرت منلی اور آپ کے ساتھی مردانگی سے لڑتے رہے۔بالآخر حضرت منلی زخمی ہو گئے اور آپ لڑتے ہوئے دریائے فرات عبور کر کے واپس آگئے۔اس واقعہ میں مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان ہوا۔مسلمانوں کے چار ہزار آدمی شہید ہوئے جبکہ ایرانیوں کے چھ ہزار فوجی مارے گئے۔یہ شکست مسلمانوں کے لیے زیادہ دیر تک ضرر رساں نتائج پیدا کرنے کا موجب بنتی مگر خوش قسمتی یہ ہوئی کہ قدرتی موقع ایسا پیدا ہو گیا کہ دشمن مسلمانوں کا تعاقب نہ کر سکا کیونکہ خود ایرانی اراکین سلطنت میں باہمی اختلاف پید اہو جانے کی وجہ سے بہمن جَاذْوَیہ کو واپس جانا پڑا۔ابن اثیر نے اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ خود ایرانی دارالحکومت مدائین میں اراکین سلطنت کے ایک فریق نے رستم کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔195 حضرت مصلح موعودؓ نے بھی جنگ چشہر کے بارے میں کچھ بیان فرمایا ہے کہ ”سب سے بڑی اور ہولناک شکست جو اسلام کو پیش آئی وہ جنگ جسر تھی۔ایرانیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کازبر دست لشکر گیا۔ایرانی سپہ سالار نے دریا پار اپنے مورچے بنائے اور ان کا انتظار کیا۔اسلامی لشکر نے جوش میں بڑھ کر ان پر حملہ کیا اور دھکیلتے ہوئے آگے نکل گئے مگر یہ ایرانی کمانڈر کی چال تھی۔اس نے ایک فوج بازو سے بھیج کر پل پر قبضہ کر لیا اور تازہ حملہ مسلمانوں پر کر دیا۔مسلمان مصلحتاً پیچھے لوٹے مگر دیکھا کہ پل پر دشمن کا قبضہ ہے۔گھبر اگر دوسری طرف ہوئے تو دشمن نے شدید حملہ کر دیا اور مسلمانوں کی بڑی تعداد دریا میں کودنے پر مجبور ہو گئی اور ہلاک بھی ہو گئی۔مسلمانوں کا یہ نقصان