اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 108 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 108

اصحاب بدر جلد 3 108 حضرت عمر بن خطاب اسلامی اخلاق کا جو نمونہ اس جنگ میں پیش ہوا اس پر میر محمود احمد صاحب نے اپنا تبصرہ کیا ہوا ہے کہ اسلامی اخلاق کا ایک نمونہ جو ہمیں نظر آتا ہے یہ ہے کہ نمارق کے مقام پر زبر دست معرکہ ہوا اور ایرانی لشکر نے شکست کھائی۔ایرانی لشکر کا سپہ سالار جابان زندہ گرفتار کر لیا گیا مگر مطر بن فضّہ جنہوں نے جابان کو گر فتار کیا تھا اسے پہچانتے نہ تھے۔جابان نے ان کی لا علمی سے فائدہ اٹھا کر ان کو فدیہ دیا اور رہائی حاصل کر لی۔کچھ دیر بعد مسلمانوں نے دوبارہ جابان کو گرفتار کر لیا اور حضرت ابوعبید کے پاس لائے اور آپ کو بتایا کہ جانان کو ایرانی لشکر میں کیا پوزیشن حاصل ہے مگر حضرت ابوعبید نے یہ برداشت نہ کیا کہ ایک شخص جس کو ایک مسلمان سپاہی ایک دفعہ فدیہ لے کر رہا کر چکا ہے دوبارہ قیدی بنا لیا جائے۔لوگوں نے دوبارہ اصرار کیا کہ جابان کو تو گویا بادشاہ کی پوزیشن حاصل ہے۔آپ نے فرمایا کہ میں تو پھر بھی بد عہدی کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔چنانچہ رہا کر دیا گیا۔اس واقعہ سے اس ضابطہ اخلاق پر روشنی پڑتی ہے جو اسلامی افواج کا لائحہ عمل ہو تا تھا اور معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح مسلمان زبر دست جنگی فوائد کے حصول کے لیے بھی اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔191 پھر معرکہ سقاطِیہ ہے جو تیرہ ہجری میں ہوا۔نمارق کے معرکہ سے شکست کھا کر ایرانی لشکر گشگر کی طرف بھاگا جہاں ایرانی کمانڈ رنڈ سیٹی پہلے سے ایک لشکر جرار لیے ہوئے مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے تیار تھا۔ابوعبید اس کے مقابلے کے لیے گشگر کی طرف بڑھے۔نرینی جو گنگر میں ایرانی لشکر کا سپہ سالار تھا ایرانی اراکین سلطنت میں خاص امتیازی مقام رکھتا تھا اور وہ اور اس کے لشکر کے دونوں بازوؤں کے کمانڈر ہندویہ اور تیرویه ایران کے ساسانی بادشاہوں کے قریبی اور گہرے رشتہ داروں میں سے تھے۔ایرانی دربار کو نمارق میں شکست کی خبر پہنچ چکی تھی اور رستم نوینی کے لیے مزید امدادی افواج کے بھیجوانے کا بندوبست کر رہا تھا کہ حضرت ابو عبید نے اپنی فوج کی نقل و حرکت کو تیز کرتے ہوئے نڑینی کے لشکر کو اس کی امدادی فوج کے آنے سے قبل ہی گنگر کے نشیبی علاقوں میں جالیا اور سَقَاطِیہ کے نام سے جو معروف جگہ تھی اس پر حملہ کر دیا۔سقاطیه کے میدان میں ایک زبر دست معرکہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں کو فتح ہوئی۔بڑے معرکہ کے بعد حضرت ابوعبید نے گشگر کے ارد گرد علاقے میں مختلف جگہوں پر جمع شدہ دشمن کے مقابلے کے لیے اسلامی دستے بھی بھیجنا شروع کر دیے۔192 پھر جنگ بارُ وسَما کا ذکر ہے۔یہ بھی تیرہ ہجری کی ہے۔بَارُوْسَما گشگر اور سَقَاطِیه کے درمیان ایک مقام تھا جہاں پر ایرانی جرنیل جالینوس سے مقابلہ ہوا جو جابان کی مدد کے لیے آیا تھا۔رستم نے نرمینی کی مدد کے لیے ایک ایرانی کمانڈر کی سر کردگی میں ایک لشکر گنگز کی طرف روانہ کیا