اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 106 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 106

محاب بدر جلد 3 106 حضرت عمر بن خطاب موجزن ہو گیا اور وہ بڑے جوش و خروش سے بڑھ بڑھ کر جہادِ عراق کے لیے اپنا اپنا نام پیش کرنے لگے۔قبل ازیں عراقی افواج کی کمان حضرت خالد بن ولیڈ کے ہاتھ میں تھی مگر حضرت ابو بکڑ نے اپنے آخری زمانے میں شامی جنگوں کی اہمیت کے پیش نظر ان کو شام جانے کا حکم دے دیا تھا اور اب عراق کی اسلامی فوج کی کمان حضرت مثنی بن حارثہ کر رہے تھے۔اس موقع پر جب حضرت عمرؓ مسلمانوں کو عراق کی جنگوں کے لیے اپنا نام پیش کرنے کی دعوت دے رہے تھے حضرت علی بھی مدینہ تشریف لائے ہوئے تھے۔آپ نے بھی ایک ولولہ انگیز تقریر کی اور کہا کہ لو گو ! یہ محاذ بہت سخت اور گراں نہ سمجھو۔ہم نے فارس والوں سے لڑائی کی اور ان پر غلبہ پایا اور ان شاء اللہ اس کے بعد بھی ہماری ہی فتح ہو گی۔یہ ساری تقریریں سننے کے بعد اب مدینہ اور اس کے نواح سے عراقی جنگوں میں شمولیت کے لیے مجاہدین کا لشکر تیار ہوا۔طبری اور بلاذری نے اس لشکر کی تعداد ایک ہزار بتائی ہے اور کتاب اخبار الطوال کے مصنف علامہ ابو حنیفہ دینوری پانچ ہزار تعداد بتاتے ہیں۔لگتا ہے کہ لشکر کی مدینہ سے روانگی کے وقت تعداد ایک ہزار تھی مگر محاذ جنگ تک پہنچتے پہنچتے یہ تعداد پانچ ہزار تک جا پہنچی کیونکہ بلاذری اور ابو حنیفہ نے تصریح کی ہے که امیر لشکر راستہ میں جس عرب قبیلہ کے پاس سے گزرتے اسے لشکر میں شمولیت کی دعوت دیتے۔اب یہ سوال بھی پیدا ہوا کہ اس لشکر کا امیر کون ہو ؟ گو حضرت مثالی تھے لیکن جو نیالشکر تیار ہوا تھا اس کا امیر کون ہو ؟ حضرت عمر کی جو ہر شناس نظر نے ابو عبید ثقفی کا انتخاب کیا۔بعض لوگوں پر یہ امر گراں گزرا کہ سَابِقُونَ الْأَوَّلُون مہاجرین اور انصار کو چھوڑ کر جنہوں نے اپنے خون سے اسلام کے پودے کو سینچا تھا ایک شخص کو امیر بنا دیا ہے جو بعد میں آنے والا ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ صحابہ کو اگر کوئی امتیازی مقام حاصل ہے تو محض اس لیے کہ وہ اسلام کی خدمت میں پیش پیش رہے اور دین کی طرف سے مدافعت کے لیے بڑھ چڑھ کے دشمن سے بر سر پیکار ہوئے مگر اب اس موقع پر پیچھے رہ کر انہوں نے اپنا یہ حق کھو دیا۔اس لیے اس موقع پر جو شخص اسلام کی حفاظت کے لیے سب سے پہلے سامنے آیا وہی امارت کا حق دار ہے۔حضرت ابوعبید کے بعد سعد بن عبید اور سلیط بن قیس نے عراقی جنگوں کی دعوت کے موقع پر حضرت عمر کی آواز پر لبیک کہا تھا۔حضرت عمرؓ نے ان دونوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اگر تم میری آواز پر لبیک کہنے میں سبقت اختیار کرتے تو قبولِ اسلام میں سبقت کے باعث میں تمہی کو یہ کمان سونپتا۔گوسلیط بن ابوعبید کو ترجیح دینے کے متعلق علاوہ پہلی وجہ کے حضرت عمرؓ نے اس امر کا بھی اظہار فرمایا تھا کہ اس کام کے لیے کسی دھیمے شخص کی ضرورت ہے جو تحمل اور سوچ بچار سے جنگ کا اقدام کرے مگر سلیط بن قیس فوجی پیش قدمی کے سلسلہ میں بڑے جلد باز واقع ہوئے ہیں۔اگر چہ حضرت عمر نے شرف تقدم کے باعث ابو عبید کو یہ اہم کمان سونپی تھی لیکن آنحضرت صلی علیم کے بزرگ صحابہ کی قدیمی خدمات اور گذشتہ تجربات کو نظر انداز کر دینا بھی مناسب نہ تھا اس لیے آپ نے حضرت ابوعبید ثقفی کو تاکید بھی کر دی تھی کہ وہ صحابہ کے مشورے سے مستفید ہوں اور انتظامی امور میں ان کی رائے پر چلیں۔یہ مختلف