اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 101 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 101

محاب بدر جلد 3 101 حضرت عمر بن خطاب پیش خیمہ تھی۔اس طرح بیعت عقبہ ثانیہ اور ہجرت کا پختہ ارادہ کر لینے کے بعد جس مہینے کا چاند طلوع ہو اوہ محرم کا چاند تھا۔لہذ ا مناسب یہی سمجھا گیا کہ اسی کو نقطہ آغاز بنایا جائے۔علامہ ابن حجر کہتے ہیں اسلامی کیلنڈر کے محرم سے آغاز کی مناسبت سے میرے نزدیک یہ سب 183 مضبوط دلیل۔نبی کریم صلی ال مدینہ کب تشریف لائے؟ اس بارے میں مختلف آرا ہیں۔آپ مختلف جگہ ٹھہر تے ہوئے بارہ ربیع الاول 14 / نبوی مطابق 20/ ستمبر 622ء کو مدینہ کے پاس پہنچے۔بعض مورخین کے نزدیک 8 / ربیع الاول کی تاریخ تھی۔بعض کے نزدیک آپ ماہ صفر میں نکلے اور ربیع الاول میں پہنچے۔یکم ربیع الاول کو مکہ سے آپ نے ہجرت کا آغاز فرمایا اور بارہ ربیع الاول کو مدینہ پہنچے۔تقویم ہجری کس سال میں ہوئی ؟ 184 اس بارے میں بھی مختلف آرا ہیں۔کب یہ کیلنڈر شروع ہوا؟ کچھ کہتے ہیں سولہ ہجری میں ہوئی۔کچھ کے نزدیک سترہ ہجری میں ہوئی۔کچھ کہتے ہیں کہ اٹھارہ ہجری میں ہوئی۔بعض کے نزدیک اکیس ہجری میں ہوئی۔185 لیکن اس بات پر بہر حال اکثر متفق ہیں کہ حضرت عمر کے زمانے میں اس کیلنڈر کا اجر اہوا۔اسلامی سکه : عام مؤرخین کے نزدیک عرب میں سب سے پہلے سکہ عبد الملک بن مروان نے جاری کیا۔مدینہ طیبہ کے بعض مؤرخین نے کہا ہے کہ سب سے پہلے اسلامی سکے حضرت عمرؓ کے دور میں رائج ہوئے تھے۔ان کے اوپر الحمد للہ کندہ تھا اور بعض پر محمد رسول اللہ اور بعض پر لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وحدة‘ بھی کندہ ہو تا تھا لیکن ساسانی، ایرانی بادشاہوں کی تصویروں سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا۔ایک تحقیق کے مطابق سب سے پہلے اسلامی سکے دمشق میں سترہ ہجری میں حضرت عمررؓ کے دورِ خلافت میں رائج ہوئے تھے مگر ان کے اوپر بھی باز نطینی شہنشاہ کی تصویر اور لاطینی میں ان کی لکھائی موجود ہوا کرتی تھی اور ایک روایت کے مطابق حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں اٹھائیس ہجری میں سب سے پہلے اپنا سکہ استعمال ہوا۔وقتی طور پر ساسانیوں کے علاقوں میں رائج سکوں کو ہی چلایا گیا۔ان کے اوپر ساسانی بادشاہوں کی تصاویر ہوا کرتی تھیں مگر ان پر کوفی رسم الخط میں بسم اللہ لکھ دیا گیا۔86 اولیات فاروقی پھر یہ کہ حضرت عمرؓ نے کون کون سی باتیں شروع کیں؟ کون سی اڈلیات ہیں جو اولیاتِ فاروقی کہلاتی ہیں ؟ علامہ شبلی نعمانی اپنی کتاب الفاروق میں لکھتے ہیں کہ حضرت عمر نے ہر ذریعہ میں جو جو نئی باتیں ایجاد کیں ان کو مورخین نے یکجا لکھا ہے اور ان کو اولیات کہا جاتا ہے اور وہ درج ذیل ہیں۔یعنی یہ شروع کروائیں: