اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 96
حاب بدر جلد 3 96 حضرت عمر بن خطاب بھی، سرائے بھی میسر آجائیں۔شہروں کی آباد کاری کے بارے میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں متعد د نئے شہر آباد فرمائے۔آپؐ نے ان کو آباد کرتے وقت دفاعی، معاشی اور اقتصادی فوائد کو مد نظر رکھا۔ان شہروں کے محل وقوع کا انتظام حضرت عمر کی جنگی بصیرت ، سیاست اور آباد کاری کے اصولوں پر ، دقیق نظر پر دلالت کرتا ہے۔یہ شہر حالت جنگ اور حالتِ امن دونوں میں فائدہ مند تھے۔حضرت عمرؓ کی کوشش ہوتی کہ عرب کی جو سرحد عجم سے ملی ہوئی ہے وہاں شہر آباد ہوں تا کہ اچانک حملے سے بچا جا سکے۔ان شہروں کا محل وقوع اس طرح ہوتا جو عربوں کو موافق ہوتا۔ان شہروں کے ایک طرف عرب کی سرزمین ہوتی جو چراگاہ کا کام دیتی اور دوسری طرف عجمی سر زمین کے سر سبز علاقے ہوتے جہاں سے پھل غلہ اور دوسری اشیاء میسر ہو تیں یعنی زراعت دوسری طرف کی جاتی تھی۔شہروں کی آبادکاری میں یہ بھی مد نظر رکھا گیا کہ ان کے درمیان کوئی دریا یا سمند ر حائل نہ ہو۔حضرت عمر نے بصرہ، کوفہ ، فسطاط وغیرہ شہر آباد فرمائے۔حضرت عمرؓ نے مستحکم اور صحیح بنیادوں پر ان شہروں کی آبادکاری کی۔ان کی سڑکوں اور راستوں کو وسیع رکھا۔بڑی کھلی سڑکیں تھیں اور نہایت بہترین انداز میں منظم کیا اور یہ طرز فکر ثابت کرتی ہے کہ آپ اس علم میں ماہر اور منفر د تھے۔176 اسی طرح محکمہ فوج ہے۔اس کا قیام آپ نے کیا۔حضرت عمرؓ نے با قاعدہ فوج کی ترتیب کی اور تنظیم سازی کی۔مراتب کے لحاظ سے فوج کے رجسٹر بنوائے اور ان کی تنخواہیں مقرر فرمائیں۔حضرت عمرؓ نے فوج کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ایک جو باقاعدہ جنگ میں شامل ہوتے اور دوسرے والنٹیئر جو ضرورت کے وقت بلائے جاتے تھے۔حضرت عمرؓ کو فوج کی تربیت کا بہت خیال تھا۔انہوں نے نہایت تاکیدی احکام جاری کیے تھے کہ ممالک مفتوحہ میں کوئی شخص زراعت یا تجارت کا شغل اختیار نہ کرنے پائے۔جو علاقے فتح ہوں گے وہاں جا کے کوئی شخص تجارت یا زراعت نہیں کرے گا کیونکہ یہ فوجی تھے تو یہ فوجیوں کے بارے میں تھا کیونکہ اس سے ان کے سپاہیانہ جو ہر کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔آج کل ہم مسلمان ملکوں میں بھی دیکھتے ہیں کہ فوجی تجارتوں میں مصروف ہیں بلکہ ایک ملک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پہلے تو فوجی اپنی پیشہ وارانہ مہارت کی طرف دیکھتے تھے لیکن اب کمیشن ملتے ہی جو افسر ہو تا ہے وہ یہ دیکھتا ہے کہ کہاں کوئی نئی کالونی بن رہی ہے۔کون سی ڈیفنس کالونی بن رہی ہے جہاں مجھے پلاٹ ملے اور میں پلاٹ الاٹ کر اؤں۔اور اسی وجہ سے بہر حال پھر ان کی سپاہیانہ صلاحیتیں کم ہوتی چلی جارہی ہیں۔پھر آتا ہے کہ سرد اور گرم ممالک پر حملہ کرتے وقت موسم کا بھی خیال رکھا جاتا تھا تا کہ فوج کی صحت اور تندرستی کو نقصان نہ پہنچے۔فوج کے متعلق حضرت عمرؓ نے سختی سے یہ ہدایات دی تھیں کہ ساری فوج تیرا کی، گھوڑ سواری، تیر چلانا اور نگے پاؤں چلنا سکھے۔ہر چار مہینے کے بعد سپاہیوں کو وطن جاکر اپنے اہل و عیال سے ملنے کے لیے رخصت دی جاتی تھی۔جفاکشی کے خیال سے یہ حکم تھا کہ اہل فوج