اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 95 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 95

اصحاب بدر جلد 3 95 حضرت عمر بن خطاب 174 ڈھلک گئی اور وہ بچی اپنے گھر والوں کے پاس روتی ہوئی بھاگ گئی اور وہ در ہم اس نے اپنے منہ میں ڈال لیا۔حضرت عمرؓ نے انگلی ڈال کر اس کے منہ سے وہ درہم نکالا اور اس کو مال میں لا کر رکھ دیا اور کہا اے لوگو! عمر اور اس کی آل کے لیے خواہ وہ قریبی ہو یا دور کا ان کا اتنا ہی حق ہے جتنا عام مسلمانوں کا ہے۔اس سے زیادہ کا نہیں۔ایک اور روایت ہے۔حضرت ابو موسیٰ نے ایک دفعہ بیت المال میں جھاڑو دیا تو ان کو ایک درہم ملا۔حضرت عمر کا ایک چھوٹا بچہ گزر رہا تھا تو انہوں نے وہ اس کو دے دیا۔حضرت عمرؓ نے وہ در ہم اس بچے کے ہاتھ میں دیکھ لیا تو آپ نے اس کے بارے میں پوچھا: اس نے کہا کہ یہ مجھے ابو موسیٰ نے دیا ہے تو یہ معلوم کر لینے کے بعد کہ درہم بیت المال کا ہے ، حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اے ابو موسیٰ ! کیا اہل مدینہ میں سے آلِ عمر کے گھر سے زیادہ حقیر تر تیرے نزدیک کوئی گھر نہیں تھا۔تُو نے یہ چاہا کہ امت محمدیہ صلی علیم سے کوئی بھی باقی نہ رہے مگر وہ ہم سے اس ظلم کا مطالبہ کرے۔پھر آپ نے وہ درہم بیت المال میں لوٹا دیا۔74 رفاہ عامہ کے کام کے بارے میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے عوام الناس کی بھلائی اور بہتری کے لیے بہت سے کام سر انجام فرمائے جو درج ذیل ہیں۔زراعت میں بہتری اور عوام کے لیے پانی کی فراہمی کے لیے نہریں کھدوائیں: 1۔نہر ابو موسیٰ: دریائے دجلہ سے نو میل لمبی نہر بنا کر بصرہ تک لائی گئی۔2۔نہر معقل : یہ نہر بھی دریائے دجلہ سے نکالی گئی تھی۔3۔نہر امیر المومنین : حضرت عمرؓ کے حکم سے دریائے نیل کو بحیرہ قلزم سے ملایا گیا۔اٹھارہ ہجری میں جب قحط پھیلا تو حضرت عمرؓ نے حضرت عمرو بن عاص کو امداد کے لیے خط لکھا۔فاصلہ چونکہ زیادہ تھا اس لیے امداد میں تاخیر ہو گئی۔حضرت عمرؓ نے عمر و کو بلا کر کہا کہ دریائے نیل کو سمندر سے ملادیا جائے تو عرب میں کبھی قحط نہ ہو۔عمر و نے جو وہاں کے گورنر تھے واپس جا کر فسطاط سے بحیرہ قلزم تک نہر تیار کروائی جس کے ذریعہ بحری جہاز مدینہ کی بندر گاہ جدہ تک پہنچ جاتے۔یہ نہر انیس میل لمبی تھی اور چھ ماہ کے عرصہ میں تیار کرلی گئی۔حضرت عمرو بن عاص نے بحیرہ روم اور بحیرہ قلزم کو آپس میں ملانے کا ارادہ کیا اور چاہا کہ فرما کے پاس سے جہاں بحر قلزم اور بحر روم میں ستر میل کا فاصلہ تھا نہر نکال کر ان کو ملا دیا جائے۔فرما مصر کے نواح میں ایک ساحلی شہر تھا۔لیکن حضرت عمر یونانیوں کے ہاتھوں حاجیوں کے لوٹے جانے کے ڈر سے اس پر رضامند نہ ہوئے۔اگر عمر و بن عاص کو اجازت مل جاتی تو نہر سویز کی ایجاد عربوں کے حصہ میں آتی جو بعد میں بنائی گئی تھی۔مختلف تعمیرات: حضرت عمر نے عوام الناس کی سہولت کے لیے مختلف عمارتیں تعمیر کروائیں۔ان میں مساجد، عدالتیں، فوجی چھاؤنیاں، بیر کس ملکی تعمیراتی کاموں کے لیے مختلف دفاتر ، سڑکیں، پل، مہمان خانے، چوکیاں، سرائیں وغیرہ۔مدینہ سے مکہ تک ہر منزل پر چشمے اور سرائیں بنوائیں، چوکیاں بھی تعمیر کروائیں۔یعنی سیکیورٹی کا بھی انتظام رہے اور لوگوں کی رہائش کے لیے، آرام کرنے کے لیے ہوٹل وغیرہ 175