اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 92

اصحاب بدر جلد 3 92 حضرت عمر بن خطاب بن کعب کے ساتھ کسی قسم کا جھگڑا تھا۔حضرت اُبی نے زید بن ثابت کی عدالت میں مقدمہ کر دیا۔زید نے حضرت عمرؓ اور اُبی کو بلایا اور حضرت عمر کی تعظیم کی تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: یہ تمہارا پہلا ظلم ہے۔یہ کہہ کر آئی کے ساتھ جا کر بیٹھ گئے۔166 یعنی کہ ہم دونوں اب فریق ہیں۔فریقین کو فریق کی طرح دیکھو اور ساتھ ساتھ بٹھاؤ، نہ کہ مجھے عزت دو۔حضرت مصلح موعود اس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے یوں بیان فرماتے ہیں کہ ”حضرت عمر خلیفہ ثانی کا ایک دفعہ ایک جھگڑا اُبی بن کعب سے ہو گیا تھا۔قاضی کے پاس معاملہ پیش ہوا۔انہوں نے حضرت عمرؓ کو بلوایا اور آپ کے آنے پر (قاضی نے اپنی جگہ ادب سے چھوڑ دی کہ یہ خلیفہ وقت ہیں۔”حضرت عمر فریق مخالف کے پاس جابیٹھے اور قاضی سے فرمایا کہ یہ پہلی بے انصافی ہے جو آپ نے کی ہے۔اس وقت مجھ میں اور میرے فریق مخالف میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے تھا۔167 حضرت عمر نے افتاء کا محکمہ بھی جاری فرمایا۔قانونِ شریعت سے واقفیت کے لیے محکمہ افتاء کا قیام فرمایا اور چند صحابہ کو نامز د فرمایا کہ ان کے علاوہ کسی سے فتویٰ نہیں لیا جائے گا۔ان میں حضرت علی یعنی فتویٰ دینے والوں میں حضرت علی تھے۔حضرت عثمانؓ، حضرت معاذ بن جبل، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت، حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو در دار تھے۔ان لوگوں کے سوا اگر کوئی اور فتویٰ دیتا تو حضرت عمر ا سے منع کر دیتے تھے۔حضرت عمران مفتیان کی بھی وقتا فوقتا جانچ کرتے رہتے تھے۔168 حضرت مصلح موعود اس بارے میں فرماتے ہیں ایک صیغہ فتوی کا ہے۔رسول کریم صلی ایام اور آپ کے بعد زمانہ خلفاء میں قاعدہ تھا کہ شرعی امور میں فتوی دینے کی ہر شخص کو اجازت نہ تھی۔حضرت عمر تو اتنی احتیاط کرتے تھے کہ ایک صحابی، غالباً عبد اللہ بن مسعودؓ تھے ، جو دینی علوم میں بڑے ماہر بھی تھے اور ایک جلیل القدر انسان تھے انہوں نے ایک دفعہ کوئی مسئلہ لوگوں کو بتایا اور اس کی اطلاع آپ کو پہنچی یعنی حضرت عمرؓ کو جب اس کی اطلاع پہنچی تو آپ نے فوراً ان سے جواب طلب کیا کہ کیا تم امیر ہو یا امیر نے تم کو مقرر کیا ہے کہ فتویٰ دیتے ہو ؟ دراصل اگر ہر ایک شخص کو فتویٰ دینے کا حق ہو تو بہت سی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اور عوام کے لیے بہت سے فتاوی ابتلا کا موجب بن سکتے ہیں کیونکہ بعض اوقات ایک ہی امر کے متعلق دو مختلف فتوے ہوتے ہیں اور دونوں صحیح ہوتے ہیں۔یعنی کہ صورت حال کے مطابق فتوی دیا جاتا ہے۔مسائل کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو اس میں لچک ہوتی ہے اس صورت میں یہ فتویٰ ہو گا اور اس صورت میں یہ فتویٰ ہو گا مگر عوام کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ دونوں کس طرح درست ہیں۔اس لیے وہ پھر ابتلا میں پڑ جاتے ہیں۔پھر اسی طرح محکمہ پولیس کا اجرا کیا۔حضرت عمرؓ نے ملک میں امن قائم رکھنے کی خاطر أخداث یعنی 169