اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 87
اصحاب بدر جلد 3 87 حضرت عمر بن خطاب اور وہ اپنے اس فرض کو پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا کرتی تھی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس غرض کے لیے مردم شماری کا طریق جاری کیا اور رجسٹرات کھولے جن میں تمام لوگوں کے ناموں کا اندراج ہوا کر تا تھا۔یورپین مصنفین بھی تسلیم کرتے ہیں جیسا کہ پہلے ذکر بھی آچکا ہے کہ پہلی مردم شماری حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کی اور انہوں نے ہی رجسٹرات کا طریق جاری کیا۔اس مردم شماری کی وجہ یہی تھی کہ ہر شخص کو روٹی کپڑا دیا جاتا تھا اور حکومت کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس بات کا علم رکھے کہ کتنے لوگ اس ملک میں پائے جاتے ہیں۔آج یہ کہا جاتا ہے کہ سوویت رشیا نے غربا کے کھانے اور ان کے کپڑے کا انتظام کیا ہے۔حالانکہ سب سے پہلے اس قسم کا اقتصادی نظام اسلام نے جاری کیا ہے اور عملی رنگ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہر گاؤں، ہر قصبہ اور ہر شہر کے لوگوں کے نام رجسٹر میں درج کیے جاتے تھے۔ہر شخص کی بیوی، اس کے بچوں کے نام اور ان کی تعداد درج کی جاتی تھی اور پھر ہر شخص کے لیے غذا کی بھی ایک حد مقرر کر دی گئی تھی تاکہ تھوڑا کھانے والے بھی گزارہ کر سکیں اور زیادہ کھانے والے بھی اپنی خواہش کے مطابق کھا سکیں۔تاریخوں میں ذکر آتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابتدا میں جو فیصلے فرمائے ان میں دودھ پیتے بچوں کا خیال نہیں رکھا گیا تھا اور ان کو اس وقت غلہ وغیرہ کی صورت میں مدد ملنی شروع ہوتی تھی جب مائیں اپنے بچوں کا دودھ چھڑا دیتی تھیں۔جیسا کہ گذشتہ خطبہ میں میں نے بیان کیا تھا کہ ” ایک رات حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے حالات معلوم کرنے کے لیے گشت لگا رہے تھے کہ ایک خیمہ میں سے کسی بچہ کے رونے کی آواز آئی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہاں ٹھہر گئے۔مگر بچہ تھا کہ روتا چلا جاتا تھا اور ماں اسے تھپکیاں دے رہی تھی تاکہ وہ سو جائے۔جب بہت دیر ہو گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس خیمہ کے اندر گئے اور عورت سے کہا کہ تم بچے کو دودھ کیوں نہیں پلاتی۔یہ کتنی دیر سے رورہا ہے ؟ اس عورت نے آپ کو پہچانا نہیں۔اس نے سمجھا کہ کوئی عام شخص ہے۔چنانچہ اس نے جواب میں کہا کہ تمہیں معلوم نہیں عمرؓ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ دودھ پینے والے بچہ کو غذا نہ ملے۔ہم غریب ہیں ہمارا گزارہ تنگی سے ہوتا ہے۔میں نے اس بچے کا دودھ چھڑا دیا ہے تاکہ بیت المال سے اس کا غلہ بھی مل سکے۔اب اگر یہ روتا ہے تو روئے عمر کی جان کو جس نے ایسا قانون بنایا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی وقت واپس آئے اور راستہ میں نہایت غم سے کہتے جاتے تھے کہ عمر !عمر! معلوم نہیں تو نے اس قانون سے کتنے عرب بچوں کا دودھ چھڑوا کر آئندہ نسل کو کمزور کر دیا ہے۔ان سب کا گناہ اب تیرے ذمہ ہے۔یہ کہتے ہوئے آپ سٹور میں آئے، دروازہ کھولا اور ایک بوری آٹے کی اپنی پیٹھ پر اٹھالی۔کسی شخص نے کہا کہ لائیے میں اس بوری کو اٹھالیتا ہوں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔نہیں! غلطی میری ہے اور اب ضروری ہے کہ اس کا خمیازہ بھی میں ہی بھگتوں۔چنانچہ وہ بوری آٹے کی انہوں نے اس عورت کو پہنچائی اور دوسرے ہی دن حکم دیا کہ جس دن بچہ پید اہو اسی دن سے اس کے لیے غلہ مقرر کیا جائے کیونکہ اس کی ماں جو اس کو دودھ پلاتی ہے زیادہ غذا -