اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 49 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 49

اصحاب بدر جلد 3 49 حضرت عمر بن خطاب نبی کریم صلی علیم نے وہ نذر پوری کرنے کا ارشاد فرمایا۔96 کہ چاہے وہ جاہلیت کے زمانے کی تھی اسے پورا کرو۔ساتھ یہ شرط بھی ہے کہ اسلامی تعلیم کے اندر رہتے ہوئے جو بھی شرط ہو سکتی ہے اسے پورا کرناضروری ہے۔غزوہ تبوک میں حضرت عمر فا کیا کر دار تھا۔اس کے بارے میں کیا ذ کر ملتا ہے۔غزوہ تبوک کے موقع پر جب رسول اللہ صلی الی نام کی طرف سے چندے کی ایک خاص تحریک ہوئی تو اس کے متعلق حضرت عمرؓ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللی کلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم صدقہ کریں۔اس وقت میرے پاس مال تھا۔میں نے کہا اگر میں کسی دن حضرت ابو بکر سے سبقت لے جاسکا تو آج لے جاؤں گا تو میں اپنا نصف مال لایا۔پھر رسول اللہ صلی الی رام نے فرمایا اپنے اہل کے لیے کیا باقی چھوڑ آئے ہو ؟ میں نے کہا جتنالے کے آیا ہوں اتنا ہی چھوڑ کے آیا ہوں۔اور حضرت ابو بکر سب کچھ جو اُن کے پاس تھالے آئے۔میں تو نصف لے آیا اور حضرت ابو بکر جو کچھ تھالے آئے۔رسول اللہ صلی علیم نے ان سے بھی پوچھا۔اپنے اہل کے لیے کیا چھوڑ آئے ہو ؟ تو انہوں نے کہا میں ان کے لیے اللہ اور اس کا رسول چھوڑ آیا ہوں۔حضرت عمر کہتے ہیں میں نے سوچا کہ میں آپ سے کسی چیز میں کبھی سبقت نہیں لے جاسکوں گا۔97 اس واقعہ کو حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ : ایک جہاد کے موقع کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں۔مجھے خیال آیا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہمیشہ مجھ سے بڑھ جاتے ہیں۔آج میں ان سے بڑھوں گا۔یہ خیال کر کے میں گھر گیا اور اپنے مال میں سے آدھا مال نکال کر رسول کریم صلی للی کم کی خدمت میں پیش کرنے کیلئے لے آیا۔وہ زمانہ اسلام کے لئے انتہائی مصیبت کا دور تھا لیکن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے آئے اور رسول کریم صلی الم کی خدمت میں پیش کر دیا۔رسول کریم صلی علی یکم نے پوچھا۔ابو بکر گھر میں کیا چھوڑ آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا۔اللہ اور اس کا رسول۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔یہ سن کر مجھے سخت شرمندگی ہوئی اور میں نے سمجھا کہ آج میں نے سارا زور لگا کر ابو بکڑ سے بڑھنا چاہا تھا مگر آج بھی مجھ سے ابو بکر بڑھ گئے۔98 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ” ایک وہ زمانہ تھا کہ الہی دین پر لوگ اپنی جانوں کو بھیڑ بکری کی طرح شار کرتے تھے مالوں کا تو کیا ذ کر۔حضرت ابو بکر صدیق نے ایک سے زیادہ دفعہ اپنا گل گھر بار شار کیا۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا واقعہ نہیں ہے ایک سے زیادہ دفعہ ”حتی کہ سوئی تک کو بھی اپنے گھر میں نہ رکھا اور ایسا ہی حضرت عمرؓ نے اپنی بساط و انشراح کے موافق اور عثمان نے اپنی طاقت و حیثیت کے موافق عَلى هَذَا الْقِيَاسِ عَلَى قَدْرِ مَرَاتِب تمام صحابہ اپنی جانوں اور مالوں سمیت اس دین الہی پر قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔“ پھر آگے اس وقت