اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 40 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 40

اصحاب بدر جلد 3 40 حضرت عمر بن خطاب دوران قریش مکہ کے سفیر سہیل بن عمرو کا لڑکا ابو جندل بیڑیوں اور ہتھکڑیوں میں جکڑا ہوا اس مجلس میں گرتا پڑتا آپہنچا۔اس نوجوان کو اہل مکہ نے مسلمان ہونے پر قید کر لیا تھا اور سخت عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا۔جب اسے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی علی یکم مکہ کے اس قدر قریب تشریف لائے ہوئے ہیں تو وہ کسی طرح اہل مکہ کی قید سے چھوٹ کر اپنی بیٹیوں میں جکڑا ہوا گر تا پڑ تا حدیبیہ میں پہنچ گیا اور اتفاق سے پہنچا بھی اس وقت جب کہ اس کا باپ معاہدہ کی یہ شرط لکھا رہا تھا کہ ہر شخص جو مکہ والوں میں سے مسلمانوں کی طرف آئے وہ خواہ مسلمان ہی ہو اسے واپس کو ٹا دیا جائے گا۔ابو جندل نے گرتے پڑتے اپنے آپ کو مسلمانوں کے سامنے لاڈالا اور دردناک آواز میں پکار کر کہا کہ اے مسلمانو! مجھے محض اسلام کی وجہ سے یہ عذاب دیا جارہا ہے۔خدا کے لئے مجھے بچاؤ۔مسلمان اس نظارہ کو دیکھ کر تڑپ اٹھے مگر سہیل بھی اپنی ضد پر اڑ گیا اور آنحضرت صلی الہی نام سے کہنے لگا۔یہ پہلا مطالبہ ہے جو میں اس معاہدہ کے مطابق آپ سے کرتا ہوں اور وہ یہ کہ ابو جندل کو میرے حوالہ کر دیں۔آپ نے فرمایا ابھی تو معاہدہ تکمیل کو نہیں پہنچا۔“ ابھی تو بات ہو رہی ہے کوئی فائنل تو نہیں ہوا۔سہیل نے کہا کہ اگر آپ نے ابو جندل کو نہ کو ٹایا تو پھر اس معاہدہ کی کارروائی ختم سمجھیں۔آنحضرت صلی علی یکم نے فرمایا معاملہ کو ختم کرنے کے لیے کہ ”آؤ آؤ۔جانے دو اور ہمیں احسان و مروت کے طور پر ہی ابو جندل کو دے دو۔سہیل نے کہا نہیں نہیں یہ کبھی نہیں ہو گا۔آپ نے فرمایا شہیل! ضد نہ کرو میری یہ بات مان لو۔سہیل نے کہا میں یہ بات ہر گز نہیں مان سکتا۔اس موقع پر ابو جندل نے پھر پکار کر کہا اے مسلمانو! کیا تمہارا ایک مسلمان بھائی اس شدید عذاب کی حالت میں مشرکوں کی طرف واپس لوٹا دیا جائے گا؟ یہ ایک عجیب بات ہے کہ اس وقت ابو جندل نے آنحضرت صلی یہ کم سے اپیل نہیں کی بلکہ عامۃ المسلمین سے اپیل کی جس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ وہ جانتا تھا کہ آنحضرت صلی املی کام کے دل میں خواہ کتنا ہی درد ہو آپ کسی صورت میں معاہدہ کی کارروائی میں رخنہ نہیں پیدا ہونے دیں گے۔مگر غالباً عامتہ المسلمین سے وہ یہ توقع رکھتا تھا کہ وہ شاید غیرت میں آکر اس وقت جبکہ ابھی معاہدہ کی شرطیں لکھی جارہی تھیں کوئی ایسا رستہ نکال لیں جس میں اس کی رہائی کی صورت پیدا ہو جائے مگر مسلمان خواہ کیسے ہی جوش میں تھے آنحضرت صلی اللہ وسلم کی مرضی کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے تھے۔آپ نے کچھ وقت خاموش رہ کر ابو جندل سے درد مند انہ الفاظ میں فرمایا۔اے ابو جندل ! صبر سے کام لو اور خدا کی طرف نظر رکھو۔خدا تمہارے لئے اور تمہارے ساتھ کے دوسرے کمزور مسلمانوں کے لیے ضرور خود کوئی رستہ کھول دے گالیکن ہم اس وقت مجبور ہیں کیونکہ اہل مکہ کے ساتھ معاہدہ کی بات ہو چکی ہے اور ہم اس معاہدہ کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے۔مسلمان یہ نظارہ دیکھ رہے تھے اور مذہبی غیرت سے ان کی آنکھوں میں خون اتر رہا تھا مگر رسول اللہ صلی علیکم کے سامنے سہم کر خاموش تھے۔آخر حضرت عمرؓ سے نہ رہا گیا۔وہ آنحضرت صلی یکم کے قریب آئے اور کانپتی ہوئی آواز میں فرمایا: کیا آپ خدا کے برحق رسول نہیں ؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں ضرور