اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 35
صحاب بدر جلد 3 35 حضرت عمر بن خطاب 66 قبائل جو مسلمانوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے تھے اب وہ بھی قریش کی فتنہ انگیزی سے مسلمانوں کے خلاف اٹھنے شروع ہو گئے۔اس معاملہ میں پہل کرنے والا مشہور قبیلہ بنو خزاعہ تھا جن کی ایک شاخ بنو مصطلق نے مدینہ کے خلاف حملہ کرنے کی تیاری شروع کر دی اور ان کے رئیس حارث بن ابی ضر از نے اس علاقہ کے دوسرے قبائل میں دورہ کر کے بعض اور قبائل کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا۔آنحضرت صلیا علم کو جب اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپ نے مزید احتیاط کے طور پر اپنے ایک صحابی بُریدہ بن حصیب نامی کو دریافت حالات کے لئے “ پتہ کرنے کے لیے ”بنو مصطلق کی طرف روانہ فرمایا اور ان کو تاکید فرمائی کہ بہت جلد واپس آکر حقیقت الامر سے آپ کو اطلاع دیں۔بُریدہ گئے تو دیکھا کہ واقعی ایک بہت بڑا اجتماع ہے اور نہایت زور شور سے مدینہ پر حملہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔انہوں نے فوراً واپس آکر آنحضرت صلی الیم کو اطلاع دی اور آپ نے حسب عادت مسلمانوں کو پیش قدمی کے طور پر دیار بنو مصطلق کی طرف روانہ ہونے کی تحریک فرمائی اور بہت سے صحابہ آپ کے ساتھ چلنے کو تیار ہو گئے بلکہ ایک بڑا گر وہ منافقین کا بھی جو اس سے پہلے اتنی تعداد میں کبھی شامل نہیں ہوئے تھے “ وہ بھی ”ساتھ ہو گیا۔آنحضرت صلی غیر ہم اپنے پیچھے ابو ذر غفاری یا بعض روایات کی رو سے زید بن حارثہ کو مدینہ کا امیر مقرر کر کے اللہ کا نام لیتے ہوئے شعبان 15ھ میں مدینہ سے نکلے۔فوج میں صرف تیں گھوڑے تھے۔البتہ اونٹوں کی تعداد کسی قدر زیادہ تھی اور انہی گھوڑوں اور اونٹوں پر مل جل کر مسلمان باری باری سوار ہوتے تھے۔راستہ میں مسلمانوں کو کفار کا ایک جاسوس مل گیا جسے انہوں نے پکڑ کر آنحضرت صلی علی ایم کی خدمت میں حاضر کیا اور آپ نے اس تحقیق کے بعد کہ وہ واقعی جاسوس ہے اس سے کفار کے متعلق کچھ حالات وغیرہ دریافت کرنے چاہے مگر اس نے بتانے سے انکار کیا اور چونکہ اس کا رویہ مشتبہ تھا اس لئے مروجہ قانون جنگ کے ماتحت قانون جنگ جو تھا اس کے ماتحت ”حضرت عمرؓ نے اس کو قتل کر دیا اور اس کے بعد لشکر اسلام آگے روانہ ہوا۔بنو مصطلق کو جب مسلمانوں کی آمد آمد کی اطلاع ہوئی اور یہ خبر بھی پہنچی کہ ان کا جاسوس مارا گیا ہے تو وہ بہت خائف ہوئے کیونکہ اصل منشاء ان کا یہ تھا کہ کسی طرح مدینہ پر اچانک حملہ کرنے کا موقعہ مل جائے مگر آنحضرت صلی الی یوم کی بیدار مغزی کی وجہ سے اب ان کو لینے کے دینے پڑ گئے تھے۔پس وہ بہت مرعوب ہو گئے اور دوسرے قبائل جو ان کی مدد کے لئے ان کے ساتھ جمع ہو گئے تھے وہ تو خدائی تصرف کے ماتحت کچھ ایسے خائف ہوئے کہ فوراً ان کا ساتھ چھوڑ کر اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے مگر خود بنو مصطلق کو قریش نے مسلمانوں کی دشمنی کا کچھ ایسا نشہ پلا دیا تھا کہ وہ پھر بھی جنگ کے ارادے سے باز نہ آئے اور پوری تیاری کے ساتھ اسلامی لشکر کے مقابلہ کے لئے آمادہ رہے۔جب آنحضرت صلی نام مریسیع میں پہنچے جس کے قریب بنو مصطلق کا قیام تھا اور جو ساحل سمندر صا الله سل۔کے قریب مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام کا نام ہے تو آپ صلی یکی نے ڈیرہ ڈالنے کا حکم دیا اور صف آرائی اور جھنڈوں کی تقسیم وغیرہ کے بعد آپ نے حضرت عمر کو حکم دیا کہ آگے بڑھ کر بنو مصطلق