اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 477
صحاب بدر جلد 3 477 حضرت علی اشْيَاءَ هُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ۔بَقِيَّتُ اللهِ خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بحفیظ ( : 86-87) ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کیا کرو اور لوگوں کی چیزیں ان کو کم کر کے نہ دیا کرو اور زمین میں مفسد بنتے ہوئے بدامنی نہ پھیلاؤ۔اللہ کی طرف سے جو تجارت میں بچتا ہے وہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سچے مومن ہو اور میں تم پر نگران نہیں ہوں۔نیز اسے لکھتے جب میرا یہ خط تمہارے پاس پہنچے تو تمہارے پاس ہمارے جو اموال ہیں وہ سنبھال کر رکھنا یہاں تک کہ ہم تمہاری طرف کسی ایسے شخص کو بھیجیں جو تم سے وہ اموال وصول کرے۔پھر آپ اپنی نظریں آسمان کی طرف کر کے فرماتے اے اللہ ! یقینا تو جانتا ہے کہ میں نے انہیں تیری مخلوق پر ظلم کرنے اور تیرے حق کو چھوڑنے کا حکم نہیں دیا تھا۔انجر بن جُز موز اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے حضرت علی بن ابو طالب کو دیکھا کہ آپ کو فہ سے نکل رہے تھے اور آپ کے اوپر دو قطری چادریں تھیں۔قطر بحرین کی ایک بستی کا نام ہے جہاں سرخ دھاری دار چادریں بنتی تھیں۔جن میں سے ایک کو آپ نے تہبند کے طور پر باندھا ہو اتھا اور دوسری کو اوپر لیا ہوا تھا۔آپ کی تہبند نصف پنڈلی تک تھی۔آپ ایک کوڑا تھامے ہوئے بازار میں چل رہے تھے اور لوگوں کو اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے، سچی بات کہنے ، عمدگی سے خرید و فروخت کرنے 950 اور ماپ تول اور وزن کو پورا کرنے کی تلقین فرمارہے تھے۔مجمع تیمی سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت علی نے بیت المال میں جتنا مال تھا وہ سارے کا سارا مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔پھر آپ کے حکم سے اس میں چونا کروایا گیا۔پھر آپ نے اس میں اس امید پر نماز پڑھی کہ قیامت کے دن وہ آپ کے لیے گواہی دے۔10 حضرت مصلح موعودؓ حضرت علی کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 17 دسمبر 1892ء کو اپنا ایک رؤیا بیان فرمایا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ بن گیا ہوں یعنی خواب میں ایسا معلوم کرتا ہوں کہ وہی ہوں۔اور خواب کے عجائبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایک شخص اپنے تئیں دوسرا شخص خیال کر لیتا ہے سو اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ میں علی مرتضیٰ ہوں اور ایسی صورت واقع ہے کہ ایک گروہ خوارج کا میری خلافت کا مزاحم ہو رہا ہے یعنی وہ گروہ میری خلافت کے امر کو روکنا چاہتا ہے اور اس میں فتنہ انداز ہے۔تب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی الیکم میرے پاس ہیں اور شفقت اور تو ڈر سے مجھے فرماتے ہیں کہ يَا عَلِيُّ دَعْهُمْ وَ أَنْصَارَهُمْ وَزِرَاعَتَهُمْ یعنی اے علی ! ان سے اور ان کے مددگاروں اور ان کی کھیتی سے کنارہ کر اور ان کو چھوڑ دے اور ان سے منہ پھیر لے اور میں نے پایا کہ اس فتنہ کے وقت صبر کے لئے آنحضرت صلی علیکم مجھ کو فرماتے ہیں اور اعراض کے لئے تاکید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو ہی حق پر ہے مگر ان لوگوں سے ترک خطاب بہتر ہے۔951"