اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 472 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 472

حاب بدر جلد 3 472 حضرت علی حضرت علی سے ایک سوال کیا کہ آپ کو مجھ سے محبت ہے ؟ حضرت علی نے فرمایا ہاں۔حضرت حسنؓ نے پھر سوال کیا کہ کیا آپ کو خدا تعالیٰ سے بھی محبت ہے ؟ حضرت علیؓ نے فرمایا ہاں۔حضرت حسن نے کہا تب تو آپ ایک رنگ میں شرک کے مرتکب ہوئے۔شرک اسی کو کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ اس کی محبت میں کسی اور کو شریک بنالیا جائے۔حضرت علیؓ نے فرمایا حسن! میں شرک کا مر تکب نہیں ہوں۔میں بیشک تجھ سے محبت کرتا ہوں لیکن جب تیری محبت خدا تعالیٰ کی محبت سے ٹکرا جائے تو میں فوراً اسے چھوڑ دوں گا۔934 9356 پھر حضرت مصلح موعودؓ حضرت علی کے بارے میں ایک جگہ ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”حضرت علی ہو جب کوئی بڑی مصیبت پیش آتی تو وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کرتے تھے کہ یا کھیعص اغْفِر لی۔یعنی اسے کھیعص ! مجھے معاف فرما دے۔ائم ہانی کی ایک روایت کے مطابق ان مقطعات کے یہ معنی ہیں۔رسول اللہ صلی الیکم نے فرمایا کہ کاف قائم مقام صفت کافی کا ہے، ہاء قائم مقام صفت بادی کا ہے اور عین قائم مقام صفت عالم یا علیم کی ہے اور ص قائم مقام صفت صادق کی ہے۔136 یعنی اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگ رہے ہیں کہ اے اللہ ! تو کافی ہے۔تو ہادی ہے۔تو علیم ہے اور تو سچا ہے ، صادق ہے۔تیری تمام صفات کا واسطہ ہے کہ مجھے بخش دے۔حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ : مفسرین حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ بھی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک دفعہ اپنے ایک نوکر کو آواز دی مگر وہ نہ بولا۔آپ نے بار بار آواز دی مگر پھر بھی اس نے کوئی جواب نہ دیا۔تھوڑی دیر کے بعد وہ لڑکا اتفاقاً آپ کو سامنے نظر آگیا تو آپ نے اس سے پوچھا مَالَكَ لَمْ تُجِننِی کہ تجھے کیا ہو گیا کہ میں نے تجھے اتنی بار بلایا مگر تو پھر بھی نہیں بولا قال لثقنِی بِحِلْمِكَ وَآمَن مِنْ عُقُوبَتِكَ فَاسْتَحْسَنَ جَوَابَهُ وَاغْتَقَهُ اس نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ مجھے آپ کی نرمی کا یقین تھا اور آپ کی سزا سے میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہوں۔اس لئے میں نے آپ کی بات کا جواب نہ دیا۔حضرت علی کو اس لڑکے کا یہ جواب پسند آیا تو آپ نے اسے آزاد کر دیا۔937 اب کوئی دنیا دار ہو تا تو شاید اسے سزا دیتا کہ تومیری نرمی سے ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے لیکن آپ نے اس کو انعام سے نوازا۔حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ ”حضرت علی کے بیٹوں حسن اور حسین کو ایک پڑھایا کرتا تھا۔حضرت علی ایک دفعہ اپنے بچوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے سنا کہ آپ کے بچوں کو ان کا استاد خاتم النبیین پڑھا رہا تھا۔حضرت علیؓ نے فرمایا: میرے بچوں کو حَاتِم النبیین نہ پڑھاؤ بلکہ خاتم النبیین پڑھایا کرو یعنی 'ت کے نیچے زیر کے بجائے 'ت' کے اوپر زبر کے ساتھ پڑھاؤ۔”یعنی بیشک شخص