اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 470 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 470

محاب بدر جلد 3 470 حضرت علی الله سة رض 929 دیتا ہوں کہ وہ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے بارے میں بھی یہی کہوں یعنی گواہی دوں تو گناہگار نہیں ہوں گا۔کہا گیا کہ وہ کیسے تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی الی ایم کے ساتھ حرا پہاڑ پر تھے تو وہ ہلنے لگا۔اس پر آپ صلی الیکم نے فرمایا: ٹھہر اے حرا ! یقینا تجھ پر ایک نبی یا صدیق یا شہید ہے۔کسی نے پوچھا وہ دس جنتی لوگ کون ہیں۔حضرت سعید بن زید نے کہا رسول الله صل ال یکم خود، ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ زبیر، سعد اور عبد الرحمن بن عوف ہیں اور کہا گیا کہ دسواں کون ہے ؟ تو حضرت سعید بن زید نے کہا: وہ میں (ہوں)۔یہ واقعہ جو بیان کرنے لگا ہوں یہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے لیکن نفس پر قابورکھنے اور انانیت کو دور کرنے کے ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے اس لیے میں یہاں دوبارہ یہ بیان کر رہا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: " کہتے ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ ایک دشمن سے لڑتے تھے اور محض خدا کے لیے لڑتے تھے۔آخر حضرت علی نے اس کو اپنے نیچے گرا لیا اور اس کے سینہ پر چڑھ بیٹھے۔اس نے جھٹ حضرت علی کے منہ پر تھوک دیا۔آپ فوراً اس کی چھاتی پر سے اتر آئے اور اسے چھوڑ دیا۔اس لئے کہ اب تک تو میں محض خدا تعالیٰ کے لئے تیرے ساتھ لڑتا تھا لیکن اب جبکہ تُو نے میرے منہ پر تھوک دیا ہے تو میرے پنے نفس کا بھی کچھ حصہ اس میں شریک ہو جاتا ہے۔پس میں نہیں چاہتا کہ اپنے نفس کے لئے تمہیں نتقل کروں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے نفس کے دشمن کو دشمن نہیں سمجھا۔ایسی فطرت اور عادت اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے۔“ آپ جماعت کو نصیحت فرماتے ہیں۔”اگر نفسانی لالچ اور اغراض کے لئے کسی کو دکھ دیتے اور عداوت کے سلسلوں کو وسیع کرتے ہیں تو اس سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے والی کیا بات ہو گی ؟ 930 پھر آپ نے ایک اور موقع پر تفصیل سے بیان فرمایا اور اس پر مزید روشنی ڈالی۔فرماتے ہیں کہ "جوش نفسانی اور للہی جوش میں فرق کے واسطے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایک واقعہ سے سبق حاصل کرو۔لکھا ہے کہ حضرت علی کا ایک کافر پہلوان کے ساتھ جنگ شروع ہوا۔بار بار آپ اس کو قابو کرتے تھے وہ قابو سے نکل جاتا تھا۔آخر اس کو پکڑ کر اچھی طرح سے جب قابو کیا اور اس کی چھاتی پر سوار ہو گئے اور قریب تھا کہ خنجر کے ساتھ اس کا کام تمام کر دیتے کہ اس نے نیچے سے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔جب اس نے ایسا فعل کیا تو حضرت علی اس کی چھاتی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کو چھوڑ دیا اور الگ ہو گئے۔اس پر اس نے تعجب کیا اور حضرت علی سے پوچھا کہ آپ نے اس قدر تکلیف کے ساتھ پکڑا اور میں آپ کا جانی دشمن ہوں اور خون کا پیاسا ہوں۔پھر باوجود ایسا قابو پا چکنے کے آپ نے مجھے اب چھوڑ دیا۔یہ کیا بات ہے ؟ حضرت علی نے جواب دیا کہ بات یہ ہے کہ ہماری تمہارے ساتھ کوئی ذاتی عداوت نہیں۔چونکہ تم دین کی مخالفت کے سبب مسلمانوں کو دکھ دیتے ہو اس واسطے تم واجب القتل ہو اور میں