اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 462
صحاب بدر جلد 3 462 حضرت علی میری زندگی اور میری موت سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں فرمانبر داروں میں سے ہوں۔اس کے بعد اے حسن، اپنے بیٹے کو مخاطب فرمایا کہ میں تجھے اور اپنی تمام اولاد اور اپنے تمام گھر والوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں جو تمہارا پروردگار ہے اور یہ کہ تم حالت اسلام میں ہی دنیا سے رخصت ہونا۔تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور آپس میں تفرقہ نہ کرنا کیونکہ میں نے ابو القاسم صلی علیم سے سنا ہے کہ باہمی تعلقات کی اصلاح کرنا نفل نمازوں اور روزوں سے بہتر ہے۔( یہ بڑی اہم بات ہے۔اسے یادرکھنا چاہیے کہ باہمی تعلقات کی اصلاح کرنا نفل نمازوں اور روزوں سے بہتر ہے۔آپس میں صلح صفائی سے رہنا اصلاح کرنا اور کر وانا یہ بہت بڑی نیکی ہے ) تم اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھنا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنااس سے اللہ تعالیٰ تم پر حساب آسان فرما دے گا۔یتیموں کے معاملات میں اللہ سے ڈرنا۔نہ تو انہیں اس بات پر مجبور کرنا کہ وہ اپنی زبان سے تم سے مدد طلب کریں اور نہ اس بات پر کہ وہ تمہارے سامنے ضائع ہو جائیں۔پڑوسیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ یہ تمہارے نبی صلی ایم کی وصیت ہے۔آپ ہمیشہ پڑوسیوں کے حقوق کی وصیت کرتے رہے حتی کہ ہمیں گمان ہوا کہ کہیں آپ صلی میں کم پڑوسیوں کو وارث ہی نہ بنا دیں۔قرآن کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔قرآن پر عمل کرنے میں کہیں دوسرے تم پر سبقت نہ لے جائیں۔نماز کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ یہ تمہارے دین کا ستون ہے۔اپنے رب کے گھر کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور زندگی بھر اسے خالی نہ ہونے دو کیونکہ اگر وہ خالی چھوڑ دیا گیا تو اس جیسا کوئی گھر تمہیں نہ ملے گا۔اور جہاد فی سبیل اللہ کے معاملے میں اللہ سے ڈرو اور اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کرو۔اور زکوۃ کے بارے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ یہ رب کے غصہ کو بجھاتی ہے۔اور اپنے نبی صلی للی کم کی ذمہ داری کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔تمہارے درمیان کسی پر ظلم نہ کیا جائے۔اور اپنے نبی صلی علی ظلم کے صحابہ کے بارہ میں اللہ سے ڈرو کیونکہ رسول اللہ صلی علی کرم نے ان کے حق میں وصیت فرمائی ہے۔اور فقراء اور مساکین کے بارہ میں بھی اللہ سے ڈرو اور انہیں اپنے سامان معیشت میں شریک کر و۔اور ان کے بارے میں اللہ سے ڈرو جن کے مالک تمہارے داہنے ہاتھ ہوئے ہیں یعنی جن کی ذمہ واری تمہارے سپرد کی گئی ہے ان کے معاملات کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرو۔نماز کی حفاظت کرو۔نماز کی حفاظت کرو۔فرمایا اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کسی ملامت کرنے والے کا خوف مت کرو۔اللہ تعالیٰ کی رضا سامنے ہونی چاہیے۔( بہت اہم چیز ہے ) وہ خدا تمہارے لیے کافی ہو گا اس شخص کے خلاف جو تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے اور تمہارے خلاف بغاوت کرے۔اور لوگوں سے نیک بات کہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو نہ چھوڑو ورنہ تم میں سے بڑے تمہارے حاکم بن جائیں گے۔(بڑی اہم بات ہے امر المعروف اور نہی عن المنکر نیک کاموں کا کہنا اور بُرے کاموں سے روکنا اس پر ہمیشہ کار بند رہو۔اس کو بھی نہ چھوڑ ناور نہ تم میں سے بڑے تمہارے حاکم بن جائیں گے ) پھر تم دعا کروگے مگر تمہاری دعائیں قبول