اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 453
محاب بدر جلد 3 453 حضرت علی حضرت عائشہ کے ارد گرد جمع ہوا تھا ان کو یہ بات دیکھ کر سخت طیش آیا اور اُم المومنین کی یہ گستاخی دیکھ کر ان کے غصہ کی کوئی حد نہ رہی اور تلواریں کھینچ کر لشکر مخالف پر حملہ آور ہو گئے“ مخالف لشکر پر حملہ آور ہو گئے۔اور اب یہ حال ہو گیا کہ حضرت عائشہ کا اونٹ جنگ کا مرکز بن گیا۔صحابہ اور بڑے بڑے بہادر اس کے ارد گرد جمع ہو گئے اور ایک کے بعد ایک قتل ہونا شروع ہوا لیکن اونٹ کی باگ انہوں نے نہ چھوڑی۔حضرت زبیر تو جنگ میں شامل ہی نہ ہوئے اور ایک طرف نکل گئے مگر ایک شقی نے ان کے پیچھے سے جاکر اس حالت میں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے ان کو شہید کر دیا۔حضرت طلحہ عین میدان جنگ میں ان مفسدوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔جب جنگ تیز ہو گئی تو یہ دیکھ کر کہ اس وقت تک جنگ ختم نہ ہو گی جب تک حضرت عائشہ کو درمیان سے ہٹایا نہ جائے۔بعض لوگوں نے آپ کے اونٹ کے پاؤں کاٹ دیئے اور ہودج اتار کر زمین پر رکھ دیا تب کہیں جا کر جنگ ختم ہوئی۔اس واقعہ کو دیکھ کر حضرت علی کا چہرہ مارے رنج کے سرخ ہو گیا لیکن یہ جو کچھ ہوا اس سے چارہ بھی نہ تھا۔جنگ کے ختم ہونے پر جب مقتولین میں حضرت طلحہ کی نعش ملی تو حضرت علی نے سخت افسوس کیا۔ان تمام واقعات سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ اس لڑائی میں صحابہ کا ہر گز کوئی دخل نہ تھا بلکہ یہ شرارت بھی قاتلان عثمان کی ہی تھی اور یہ کہ طلحہ اور زبیر حضرت علی کی بیعت ہی میں فوت ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے ارادہ سے رجوع کر لیا تھا اور حضرت علی کا ساتھ دینے کا اقرار کر لیا تھا لیکن بعض شریروں کے ہاتھوں سے مارے گئے۔چنانچہ حضرت علیؓ نے ان کے قاتلوں پر لعنت بھی کی۔“ رض 89366 جنگ جمل کے اختتام پر حضرت علی نے حضرت عائشہ کے لیے تمام سواری اور زاد راہ تیار کیا اور حضرت عائشہ کو چھوڑنے کے لیے خود تشریف لائے اور حضرت عائشہ کے ہمراہ جو لوگ جانا چاہتے تھے ان کو روانہ کیا۔جس دن حضرت عائشہ نے روانہ ہونا تھا حضرت علی حضرت عائشہ کے پاس تشریف لائے اور آپ کے لیے کھڑے ہوئے اور تمام لوگوں کی موجودگی میں حضرت عائشہ لوگوں کے سامنے نکلیں اور کہا کہ اے میرے بیٹو! ہم نے تکلیف پہنچا کر اور زیادتی کر کے ایک دوسرے کو ناراض کر دیا۔آئند ہ ہمارے ان اختلافات کے باعث کوئی شخص نبی ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرے اور خدا کی قسم ! میرے اور حضرت علی کے درمیان شروع سے کبھی کوئی اختلاف نہ تھا سوائے اس کے جو مرد اور اس کے سسرالی رشتہ داروں کے درمیان عام طور پر بات ہوا کرتی ہے۔یعنی چھوٹی موٹی باتیں ہیں اور حضرت علی میری نیکیوں کے حصول کا ذریعہ ہیں۔حضرت علیؓ نے فرمایا: اے لوگو !حضرت عائشہ نے اچھی اور سچی بات کہی ہے۔میرے اور حضرت عائشہ کے درمیان محض یہی اختلاف تھا۔حضرت عائشہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم صلی اللی علم کی زوجہ مطہرہ ہیں۔حضرت علی حضرت عائشہ کو چھوڑنے کے لیے کئی میل ساتھ تشریف لے گئے اور حضرت علی نے اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت عائشہ کے ہمراہ جائیں اور ایک دن کے بعد واپس آجائیں۔894 یہ طبری کا حوالہ تھا جو میں نے ابھی پڑھا ہے۔