اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 446 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 446

اصحاب بدر جلد 3 446 حضرت علی 884 نہیں کی اور اتنابڑا بوجھ اٹھالیا۔4 پھر حضرت مصلح موعود حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد کے واقعات میں ایک اور جگہ ذکر کرتے ہوئے اس طرح فرماتے ہیں کہ ”ایک دو دن تو خوب لوٹ مار کا بازار گرم رہا لیکن جب جوش ٹھنڈ اہو ا تو ان باغیوں کو اپنے انجام کا فکر ہوا اور ڈرے کہ اب کیا ہو گا۔چنانچہ بعض تو یہ سمجھ کر کہ حضرت معاویہؓ ایک زبر دست آدمی ہیں اور ضرور اس قتل کا بدلہ لیں گے شام کا رخ کیا اور وہاں جا کر خود ہی واویلا کرنا شروع کر دیا کہ حضرت عثمان شہید ہو گئے اور کوئی ان کا قصاص نہیں لیتا۔کچھ بھاگ کر مکہ کے راستے میں حضرت زبیر اور حضرت عائشہ سے جاملے اور کہا کہ کس قدر ظلم ہے کہ خلیفہ اسلام شہید کیا جائے اور مسلمان خاموش رہیں۔کچھ بھاگ کر حضرت علی کے پاس پہنچے اور کہا کہ اس وقت مصیبت کا وقت ہے اسلامی حکومت کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہے آپ بیعت میں تا لوگوں کا خوف دور ہو اور امن و امان قائم ہو۔جو صحابہ مدینہ میں موجود تھے انہوں نے بھی بالا تفاق یہی مشورہ دیا کہ اس وقت یہی مناسب ہے کہ آپ اس بوجھ کو اپنے سر پر رکھیں کہ آپ کا یہ کام موجب ثواب و رضائے الہی ہو گا۔جب چاروں طرف سے آپ کو مجبور کیا گیا تو کئی دفعہ انکار کرنے کے بعد آپ نے مجبوراً اس کام کو اپنے ذمہ لیا اور بیعت لی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علی کا یہ فعل بڑی پر مشتمل تھا۔اگر آپ اس وقت بیعت نہ لیتے تو اسلام کو اس سے بھی زیادہ نقصان پہنچتا جو آپ کی حکمت پر 88566 اور حضرت معاویہ کی جنگ سے پہنچا۔“ یہ حضرت مصلح موعودؓ نے نتیجہ نکالا ہے۔پھر حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے متعلق جو یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے حضرت علی کی بیعت کو توڑا یہ غلط مثال ہے۔یہ جو تھا ناں کہ بیعت کر لی اور آرام سے بیعت کر لی تو وہ اتنی آرام سے نہیں ہوئی تھی۔اس کی تفصیل حضرت مصلح موعودؓ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ پھر بیعت کو توڑ کر حضرت عائشہ کے ساتھ چلے گئے یا ان کے خلاف جنگ کی۔اس کے بارے میں حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں۔یہ غلط مثال اور تاریخ سے ناواقفیت کا ثبوت ہے۔اس طرح نہیں ہوا۔تاریخیں اس بات پر متفقہ طور پر شاہد ہیں کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے حضرت علی کی جو بیعت کی تھی وہ بیعت طوعی نہیں تھی بلکہ جبراً ان سے بیعت لی گئی تھی۔چنانچہ محمد اور طلحہ دو راویوں سے طبری میں یہ روایت آتی ہے کہ حضرت عثمان جب شہید ہو گئے تو لوگوں نے آپس میں مشورہ کر کے فیصلہ کیا کہ جلد کسی کو خلیفہ مقرر کیا جائے تا امن قائم ہو اور فساد مئے۔آخر لوگ حضرت علیؓ کے پاس گئے اور ان سے عرض کیا کہ آپ ہماری بیعت لیں۔حضرت علی نے کہا کہ اگر تم نے میری بیعت کرنی ہے تو تمہیں ہمیشہ میری فرمانبرداری کرنی پڑے گی۔اگر یہ بات تمہیں منظور ہے تو میں تمہاری بیعت لینے کے لئے تیار ہوں ورنہ کسی اور کو اپنا خلیفہ مقرر کر لو میں اس کا ہمیشہ فرمانبردار رہوں گا اور تم سے زیادہ اس کی اطاعت کروں گا جو بھی خلیفہ ہو گا۔