اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 442 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 442

باب بدر جلد 3 442 حضرت علی سرکش اونٹ بھی بلبلا اٹھتا۔بڑی سختی سے نگرانی رکھی ہوئی تھی۔بر خلاف اس کے آپ ضرورت سے زیادہ نرم ہیں۔آپ کے معمال اس نرمی سے فائدہ اٹھا کر من مانی کارروائیاں کرتے ہیں اور آپ کو اس کی خبر بھی نہیں ہونے پاتی۔رعایا بجھتی ہے کہ عمال جو کچھ کرتے ہیں وہ سب دربار خلافت کے احکام کی ہے۔اس طرح تمام بے اعتدالیوں کا ہدف آپ کو بننا پڑتا ہے۔جب مصریوں نے حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور اس قدر شدت اختیار کی کہ کھانے پینے سے بھی محروم کر دیا۔حضرت علی کو معلوم ہوا تو محاصرہ کرنے والوں کے پاس گئے اور فرمایا تم لوگوں نے جس قسم کا محاصرہ قائم کیا ہے وہ نہ صرف اسلام بلکہ انسانیت کے بھی خلاف ہے۔کفار بھی مسلمانوں کو قید کر لیتے ہیں تو کھانے پینے سے محروم نہیں کرتے۔حضرت عثمان کے بارے میں فرمایا کہ اس شخص نے تمہارا کیا نقصان کیا ہے جو ایسی سختی روا ر کھتے ہو۔محاصرین نے حضرت علی کی سفارش کی کچھ پروا نہیں کی اور محاصرے میں سہولت پیدا کرنے سے قطعی انکار کر دیا۔حضرت علی غصہ میں اپنا عمامہ پھینک کر واپس چلے گئے۔877 لوگوں نے حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ان کا پانی بند کر دیا۔اس پر آپ نے (حضرت عثمان نے ) اوپر سے جھانک کر دیکھا۔انہوں نے کہا کیا تم لوگوں میں علی ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں۔پھر پوچھا سعد ہیں ؟ جواب ملا نہیں۔پھر کچھ دیر خاموش رہ کر حضرت عثمان نے کہا کیا تم میں سے کوئی ہے جو علی سے جا کر کہے کہ وہ ہمیں پانی پلائیں۔حضرت علی کو یہ اطلاع ہوئی تو انہوں نے پانی کی بھری ہوئی تین مشکیں آپ کے گھر روانہ کیں مگر باغیوں کی مزاحمت کی وجہ سے یہ مشکیں حضرت عثمان کے گھر نہیں پہنچ رہی تھیں، ان کو لے جانے نہیں دے رہے تھے۔ان مشکوں کو پہنچانے کی کوشش میں بَنُوهَا ثیم اور بَنُو اُمیہ کے کئی غلام زخمی ہوئے تاہم پانی آخر کار حضرت عثمان کے گھر پہنچ گیا۔حضرت عثمان کے گھر حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کا پہرا حضرت علی ہو جب معلوم ہوا کہ حضرت عثمان کے قتل کا منصوبہ ہے تو آپ نے اپنے صاحبزادوں امام حسن اور امام حسین سے فرمایا: اپنی تلواریں لے کر جاؤ اور حضرت عثمان کے دروازے پر کھڑے ہو جاؤ اور خبر دار کوئی بلوائی آپ تک پہنچنے نہ پائے۔یہ دیکھ کر باغیوں نے حضرت عثمان کے گھر کے دروازے پر تیر اندازی شروع کر دی جس سے حضرت حسن اور محمد بن طلحہ لہولہان ہو گئے۔اسی اثنا میں محمد بن ابو بکر دو ساتھیوں سمیت ایک انصاری کے گھر کی طرف سے چھپ کر حضرت عثمان کے گھر میں کو دے اور آپ کو شہید کر دیا۔جب یہ خبر حضرت علی کو پہنچی تو آپ نے آکر دیکھا کہ حضرت عثمان واقعی شہید کر دیے گئے ہیں۔اس پر آپ نے اپنے بیٹوں سے پوچھا۔تم دونوں کے دروازے پر پہرہ دار ہونے کے باوجو د حضرت عثمان کس طرح شہید کر دیے گئے ؟ یہ کہہ کر آپ نے حضرت حسن کو تھپڑ مارا اور