اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 439
حاب بدر جلد 3 439 حضرت علی کوئی قیدی تھے۔(ایسی صورت میں) آپ پر یہ واجب تھا کہ آپ کسی دوسرے عرب علاقے اور شرق اور غرب کے کسی حصہ کی جانب ہجرت فرما جاتے۔(اگر ایسے حالات تھے ، زبر دستی تھی۔کوئی زبر دستی تو نہیں تھی۔ہجرت کر سکتے تھے ) اور لوگوں کو جنگ پر آمادہ کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ نہ صرف ہجرت کر جاتے بلکہ لوگوں کو جنگ پر آمادہ کرتے کہ یہ لوگ تو مرتد اور کافر ہیں ان کے خلاف جنگ کرو۔اور بادیہ نشینوں کو لڑائی کی ترغیب دیتے اور اپنی فصاحت بیانی سے ان کو مسخر کرتے اور پھر مرتد ہونے والے لوگوں سے جنگ کرتے۔پھر فرماتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب کے گرداند ازا ایک لاکھ بادیہ نشین جمع ہو گئے تھے جبکہ علی اس مدد کے زیادہ حقدار تھے اور اس مہم جوئی کے لیے زیادہ مناسب تھے۔پھر کیوں آپ یعنی حضرت علی کافروں کے پیچھے لگ گئے ، یعنی پہلے خلفاء کے جن کو تم کافر کہتے ہو۔آپ بر سر اقتدار ہوئے مگر ست لوگوں کی طرح بیٹھے رہے اور مجاہدوں کی طرح اٹھ کھڑے نہ ہوئے۔وہ کون سی بات تھی جس نے آپ کو اقبال و عروج کی تمام علامات ہوتے ہوئے بھی اس خروج سے روکے رکھا، ان باتوں سے روکے رکھا۔آپ جنگ و جدل اور حق کی تائید اور لوگوں کو دعوت دینے کے لیے کیوں نہ اٹھ کھڑے ہوئے۔کیا آپ قوم کے سب سے فصیح و بلیغ واعظ اور ان لوگوں میں سے نہ تھے جو کلام میں روح پھونک دیا کرتے ہیں۔اپنی بلاغت اور حسن بیان کے زور سے اور سامعین کے لیے اپنی قوت تاثیر سے لوگوں کو اپنے گرد جمع کر لینا آپ کے لیے محض ایک گھنٹہ بلکہ اس سے بھی کم تر وقت کا کام تھا۔اور جب لوگ ایک کاذب دجال کے گرد جمع ہو گئے تو شیر خدا کی کیفیت تو کچھ اور ہی ہونی چاہیے تھی جو بڑے بڑے کام کرنے والے رب کا تائید یافتہ اور رب العالمین کا محبوب تھا۔پھر عجیب تر اور حیران کن بات یہ ہے کہ آپ نے صرف مبائعین میں سے ہونے پر اکتفا نہیں فرمایا۔یعنی یہی نہیں کیا کہ صرف بیعت کرلی، بلکہ ہر نماز شیخین (یعنی ابو بکر اور عمر) کے پیچھے ادا کی اور کسی وقت بھی اس میں تخلف نہ فرمایا اور نہ ہی شکوہ کرنے والوں کی طرح اس سے گریز کیا۔آپ ان کی شوریٰ میں شامل ہوئے اور ان کے دعویٰ کی تصدیق کی اور اپنی پوری ہمت اور پوری طاقت سے ان کی مدد کی اور کبھی پیچھے نہ ہٹے۔اس لیے غور کرو اور بتاؤ کہ کیا ستم رسیدوں اور مکفروں کی یہی نشانیاں ہوتی ہیں ؟ اور پھر اس بات پر بھی غور کرو کہ کذب و افترا کا علم ہونے کے باوجو د وہ یعنی حضرت علی محاذبوں کی اتباع کرتے رہے گویا کہ صدق و کذب ان کے نزدیک یکساں تھے۔آپ حضرت علی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کیا حضرت علی یہ نہیں جانتے تھے کہ جو لوگ قادر و توانا ذات پر توکل کرتے ہیں وہ ایک لحظہ کے لیے بھی مداہنت کی راہ کو اہمیت نہیں دیتے خواہ انہیں سچائی کی خاطر جلا دیا جائے، ہلاکت میں ڈال دیا جائے اور پارہ پارہ کر دیا جائے۔872 پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے واضح فرما دیا کہ حضرت علی نے کبھی بھی اپنے سے پہلے خلفاء کی مخالفت نہیں کی تھی بلکہ ان کی بیعت کی دور نہ جو باتیں تم حضرت علی کے بارے میں کہتے ہو کہ