اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 437
اصحاب بدر جلد 3 437 حضرت علی 865 اور وہ کپڑے پہنے۔پھر حضرت ابو بکر کی مجلس میں ہی بیٹھے رہے علامہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب نےنبی کریم صلی للی کم کی وفات کے بعد پہلے دن یا دوسرے دن حضرت ابو بکر کی بیعت کر لی تھی۔اور یہی سچ ہے کیونکہ حضرت علی نے حضرت ابو بکر کو کبھی نہیں چھوڑا اور نہ ہی انہوں نے حضرت ابو بکر کے پیچھے نماز کی ادا ئیگی ترک کی۔866 حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت علی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اوّل اوّل حضرت ابو بکر کی بیعت سے بھی تخلف کیا تھا مگر پھر گھر جا کر خدا جانے کیا خیال آیا کہ پگڑی بھی نہ باندھی اور فور آٹوپی سے ہی بیعت کرنے کو آگئے اور پگڑی پیچھے منگوائی۔معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں خیال آگیا ہو گا کہ یہ تو بڑی معصیت ہے۔اس واسطے اتنی جلدی 868 کی کہ پگڑی بھی نہ باندھی۔867 یعنی کپڑے بھی پورے نہیں پہنے اور جلدی جلدی آگئے۔دوسری قسم کی روایات میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ حضرت علی نے حضرت فاطمہ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر کی بیعت کی تھی جیسا کہ بخاری میں ہے کہ حضرت علی نے حضرت فاطمہ کی وفات تک بیعت نہیں کی تھی۔جبکہ بہت سے علماء نے بخاری میں موجود اس روایت پر جرح کی ہے۔چنانچہ امام بیہقی سنن الکبریٰ میں امام شہاب الدین زہری کی روایت کا ذکر کرتے ہوئے جس میں انہوں نے یہ ذکر کیا ہے کہ حضرت علی نے حضرت ابو بکر کی بیعت حضرت فاطمہ کی وفات تک نہیں کی تھی، تحریر کرتے ہیں۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ امام زہری کی یہ بات کہ حضرت علی حضرت ابو بکر کی بیعت سے حضرت فاطمہ کی وفات تک رکے رہے یہ منقطع قول ہے اور حضرت ابو سعید خدری کی روایت زیادہ صحیح ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ حضرت علی نے سقیفہ کے بعد ہونے والی عام بیعت میں حضرت ابو بکر کے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی۔869 اور بعض علماء نے بخاری میں موجود اس روایت کی تطبیق اس طرح سے کی ہے کہ اس دوسری بیعت کو تجدید بیعت کا نام دیا ہے۔شاید ان علماء کا یہ خیال ہو کہ آخر کوئی بات تو ہو گی اس لیے بخاری جیسی کتاب میں اس روایت کی اہمیت کے پیش نظر ضروری ہے کہ حضرت علی کی اس دوسری بیعت کو کوئی نام دیا جائے۔بہر حال یہ ضروری بھی نہیں ہے کہ بخاری کی سب روایات ٹھیک ہی ہوں۔چنانچہ ڈاکٹر علی محمد صلابی اپنی کتاب سیرۃ امیر المومنین علی بن ابی طالب شخصیتۂ وعضرہ میں تحریر کرتے ہیں کہ علامہ ابن کثیر اور بہت سے اہل علم کے نزدیک حضرت علی نے چھ ماہ بعد جب حضرت فاطمہ کی وفات ہوئی اپنی بیعت کی تجدید کی ہے۔10 انہوں نے اس کا نام تجدید بیعت رکھ دیا ہے کہ پہلے بیعت تو کر لی تھی اور حضرت فاطمہ کی وفات کے بعد دوبارہ تجدید کی۔870