اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 427 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 427

اصحاب بدر جلد 3 427 حضرت علی دی اور وہ اسی سے شہید ہو گئے۔سلمہ کہتے ہیں۔میں نکلا تو نبی صلی اللی یکم کے بعض صحابہ کہہ رہے تھے کہ عامر کے عمل باطل ہو گئے اس نے اپنے آپ کو قتل کیا۔وہ کہتے ہیں۔میں روتے ہوئے نبی صلی علیہ یکم کے پاس آیا۔میں نے کہا یار سول اللہ ! عامر کے عمل ضائع ہو گئے ؟ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا یہ کس نے کہا؟ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا آپ کے بعض صحابہ نے۔آپ نے فرمایا جس نے یہ کہا غلط کہا۔اس کے لیے تو دوہرا اجر ہے۔پھر آپ صلی المیڈم نے مجھے حضرت علی کی طرف بھیجا۔ان کی آنکھیں آئی ہوئی تھیں۔آپ نے فرمایا: میں اس شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے یا اللہ اور اس کار سول اس سے محبت کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں میں حضرت علی کے پاس گیا اور انہیں ساتھ لے کر چل پڑا۔ان کی آنکھیں آئی ہوئی تھیں۔یعنی بیماری سے آنکھیں ابلی ہوئی تھیں، سوجی ہوئی تھیں۔یہاں تک کہ میں انہیں لے کر رسول کریم ملی ایم کے پاس پہنچا۔آپ نے ان کی آنکھوں میں لعابِ دہن لگایا۔وہ ٹھیک ہو گئیں۔آپ نے انہیں جھنڈا دیا اور مرحب نکلا اور اس نے کہا کہ خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں۔ہتھیار بند بہادر تجربہ کار جبکہ جنگیں شعلے بھڑ کا ر ہی ہوتی ہیں۔حضرت علی نے کہا:۔أَنَا الَّذِي سَمَتْنِي أُتِي حَيْدَرَهُ كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيْهِ الْمَنْظَرَةٌ أو فِيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنَدَرَهُ کہ میرا نام میری ماں نے حیدر رکھا ہے۔ہیبت ناک شکل والے شیر کی مانند جو جنگلوں میں ہوتا ہے۔میں ایک صاع کے بدلے سندرہ دیتا ہوں۔یہ عربی کا ایک محاورہ ہے جس کا مفہوم یہ ہے۔اس طرح بھی ہو سکتا ہے کہ سیر کے مقابلے میں سواسیر جو اردو محاورہ استعمال ہو تا ہے کہ ایسے کو تیسا۔اینٹ کا جواب پتھر سے دینے والا۔سندرہ کے لفظی معنی مکیال واسع، یعنی بہت بڑا پیمانہ ہے۔صاع صرف تین سیر کا ہوتا ہے سندہ بڑا ہوتا ہے۔پھر راوی کہتے ہیں کہ یہ کہنے کے بعد حضرت علی نے مرحب کے سر پر ضرب لگائی اور قتل کر دیا اور حضرت علی کے ہاتھوں فتح ہوئی۔یہ بھی مسلم کی روایت ہے۔837 حضرت مصلح موعود اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : خیبر کے دن حضرت علی کو موقع ملا۔رسول کریم صلی علی یم نے فرمایا آج میں اسے موقع دوں گا جو خدا سے محبت کرتا ہے اور جس سے خدا تعالیٰ محبت کرتا ہے اور تلوار اس کے سپر د کروں گا جسے خد اتعالیٰ نے فضیلت دی ہے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں اس مجلس میں موجود تھا اور اپنا سر اونچا کرتا تھا کہ شاید رسول کریم صلی علیکم مجھے دیکھ لیں اور مجھے دے دیں۔مگر آپ دیکھتے اور چپ رہتے۔میں پھر سر اونچا کرتا اور آپ پھر دیکھتے اور چپ رہتے حتی کہ علی آئے ، ان کی آنکھیں سخت دکھتی تھیں۔رسول کریم صلی ا یکم نے فرمایا۔علی ! آگے آؤ۔وہ آپ کے پاس پہنچے تو آپ نے لعاب دہن ان کی آنکھوں پر لگایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری آنکھوں کو شفا دے۔یہ تلوار لوجو اللہ تعالیٰ نے تمہارے سپرد کی ہے۔83866