اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 419
محاب بدر جلد 3 419 حضرت علی اور حضرت علی کا بھی ان میں حق ہو سکتا تھا اور حضرت فاطمہ بھی اس کی حقدار تھیں لیکن آپ صلی للی یکم نے احتیاط سے کام لیا اور نہ چاہا کہ ان اموال سے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو دے دیں کیونکہ ممکن تھا کہ اس سے آئندہ لوگ کچھ کا کچھ نتیجہ نکالتے اور بادشاہ اپنے لیے اموال الناس کو جائز سمجھ لیتے۔پس احتیاط کے طور پر آپ نے حضرت فاطمہ کو ان غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو آپ کے پاس اس وقت بغرض تقسیم ہمیں کوئی نہ دی۔اس جگہ یہ بھی یادر کھنا چاہیے کہ ان اموال میں آپ کا اور آپ کے رشتہ داروں کا خدا تعالیٰ نے حصہ مقرر فرمایا ہے ان سے آپ خرچ فرما لیتے تھے اور اپنے متعلقین کو بھی دیتے تھے۔ہاں جب تک کوئی چیز آپ کے حصہ میں نہ آئے اسے قطعا خرچ نہ فرماتے اور اپنے عزیز سے عزیز رشتہ داروں کو بھی نہ دیتے۔822 کیا د نیا کسی بادشاہ کی مثال پیش کر سکتی ہے جو بیت المال کا ایسا محافظ ہو۔اگر کوئی نظیر مل سکتی ہے تو صرف اسی پاک وجود کے خدام میں سے ورنہ دوسرے مذاہب اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتے۔نماز تہجد کی تلقین حضرت علی بن ابو طالب نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی للی کم ایک رات ان کے اور اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا تم دونوں نماز نہیں پڑھتے تو میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔جب وہ چاہے کہ ہمیں اٹھائے تو ہمیں اٹھاتا ہے۔آپ صلی یہی تم نے مجھے اس کا کوئی جواب نہ دیا اور واپس تشریف لے گئے۔نماز سے مراد تہجد تھی یعنی کہ نماز تہجد اگر نہیں پڑھتے، تہجد کے وقت اگر ہماری آنکھ نہیں کھلتی تو یہ اللہ کی مرضی ہے اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو ہمیں اٹھا دے اور جب اٹھا دیتا ہے تو ہم پڑھ لیتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے کوئی بحث نہیں کی اور واپس تشریف لے گئے۔پھر میں نے آپ کو سنا جبکہ آپ واپس جارہے تھے۔آپ اپنی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے فرما رہے تھے کہ وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جدلا کہ انسان سب سے بڑھ کر بحث کرنے والا ہے۔123 حضرت مصلح موعود اس واقعے کو بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں۔”ایک دفعہ آپ رات اپنے داماد حضرت علی اور اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کے گھر گئے اور فرمایا کیا تہجد پڑھا کرتے ہو ؟ ( یعنی وہ نماز جو آدھی رات کے قریب اٹھ کر پڑھی جاتی ہے) حضرت علی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پڑھنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر جب خدا تعالیٰ کی منشا کے ماتحت کسی وقت ہماری آنکھ بند رہتی ہے تو پھر تہجد رہ جاتی ہے۔آپ نے فرمایا تہجد پڑھا کرو اور اٹھ کر اپنے گھر کی طرف چل پڑے اور راستہ میں بار بار کہتے جاتے تھے وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلاً یہ قرآن کریم کی ایک آیت ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ انسان اکثر اپنی غلطی تسلیم کرنے سے گھبراتا ہے اور مختلف قسم کی دلیلیں دے کر اپنے قصور پر پردہ ڈالتا ہے۔مطلب یہ تھا کہ بجائے اس کے کہ حضرت علی اور حضرت فاطمہ یہ کہتے کہ ہم سے کبھی کبھی غلطی بھی ہو