اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 399 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 399

ب بدر جلد 3 399 حضرت عثمان بن عفان کھلے طور پر اظہار بھی کر چکا ہوں کہ ان سادات سے بغض و کینہ رکھنا برکات ظاہر کرنے والے اللہ سے سب سے زیادہ قطع تعلقی کا باعث ہے اور جس نے بھی ان سے دشمنی کی تو ایسے شخص پر رحمت اور شفقت کی سب راہیں بند کر دی جاتی ہیں اور اس کے لئے علم و عرفان کے دروازے وا نہیں کئے جاتے اور اللہ تعالیٰ انہیں دنیا کی لذات و شہوات میں چھوڑ دیتا ہے اور نفسانی خواہشات کے گڑھوں میں گرا دیتا ہے اور اسے (اپنے آستانے سے دور رہنے والا اور محروم کر دیتا ہے۔پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ”آنحضرت میام کے بعد جو کچھ اسلام کا بنا ہے وہ اصحاب ثلاثہ سے ہی بنا ہے۔777 یعنی حضرت ابو بکر، عمر اور عثمان۔776" پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اہل تشیع کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ”ہم تمہاری گالیوں کا شکوہ کیا کریں کیونکہ تم تمام صحابہ کو گالیاں دیتے ہو مگر قدرے قلیل اور نیز تم آنحضرت صلی اللہ کم کی بیویوں امہات المومنین کو لعنت سے یاد کرتے ہو اور گمان کرتے ہو کہ خدا کی کتاب میں کچھ زیادہ اور کم کیا گیا ہے اور کہتے ہو کہ وہ بیاض عثمان ہے اور خدا کی طرف سے نہیں ہے۔۔۔۔۔تم نے اسلام کو ایسا سمجھ لیا جیسا کہ ایک بیابان جس کی زمین خشک اور زراعت سے خالی ہے یعنی خدا کے مقربوں سے خالی ہے۔“ پھر فرمایا ”پس کون سی عزت تمہارے ہاتھوں سے باقی رہی اے حد سے نکلنے والو!؟ 7786 پھر آپ فرماتے ہیں: ”مجھے میرے رب کی طرف سے خلافت کے بارے میں ازروئے تحقیق تعلیم دی گئی ہے اور محققین کی طرح میں اس حقیقت کی تہ تک پہنچ گیا اور میرے رب نے مجھ پر یہ ظاہر کیا کہ صدیق اور فاروق اور عثمان (رضی اللہ عنہم ) نیکو کار اور مومن تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے چن لیا اور جو خدائے رحمن کی عنایات سے خاص کئے گئے اور اکثر صاحبانِ معرفت نے ان کے محاسن کی شہادت دی۔انہوں نے بزرگ و برتر خدا کی خوشنودی کی خاطر وطن چھوڑے۔ہر جنگ کی بھٹی میں داخل ہوئے اور موسم گرما کی دو پہر کی تپش اور سردیوں کی رات کی ٹھنڈک کی پروانہ کی بلکہ نوخیز جوانوں کی طرح دین کی راہوں پر محو خرام ہوئے اور اپنوں اور غیروں کی طرف مائل نہ ہوئے اور اللہ رب العالمین کی خاطر سب کو خیر باد کہہ دیا۔ان کے اعمال میں خوشبو اور ان کے افعال میں مہک ہے اور یہ سب کچھ ان کے مراتب کے باغات اور ان کی نیکیوں کے گلستانوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور ان کی بادِ نسیم اپنے معطر جھونکوں سے ان کے اسرار کا پتہ دیتی ہے اور ان کے انوار اپنی پوری تابانیوں سے ہم پر ظاہر ہوتے ہیں۔پس تم ان کے مقام کی چمک دمک کا ان کی خوشبو کی مہک سے پتہ لگاؤ اور جلد بازی کرتے ہوئے بد گمانیوں کی پیروی مت کرو اور بعض روایات پر تکیہ نہ کرو! کیونکہ ان میں بہت زہر اور بڑا غلو ہے اور وہ قابل اعتبار نہیں ہو تیں۔ان میں سے بہت ساری روایات تہ و بالا کرنے والی آندھی اور بارش کا دھوکا دینے والی بجلی کے مشابہ ہیں۔پس اللہ سے ڈر اور ان (روایات) کی پیروی کرنے والوں میں سے نہ بن۔779"