اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 386 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 386

اصحاب بدر جلد 3 386 حضرت عثمان بن عفان سے فرمایا کہ آپ کی مروت کی وجہ سے وہ ہم نے آپ کو صبہ کر دیے ہیں۔وہ نہیں لینے۔اضمعی کہتے ہیں کہ ابن عامر نے قطن بن عوف هلالی کو کیرمان کے علاقے پر گورنر بنایا۔وہ چار ہزار مسلمانوں کا لشکر لے کر نکلا۔راستے میں ایک وادی بارش کے پانی کی وجہ سے یہ پڑی جس کی وجہ سے ان کا راستہ بند ہو گیا اور قطن کو بروقت نہ پہنچنے کا اندیشہ لاحق ہوا تو اس نے اعلان کیا کہ جو شخص اس وادی کو عبور کرے گا اس کے لیے ایک ہزار درہم بطور انعام ہو گا۔اس پر لوگ تیر کر پار کرنے لگے۔جب بھی کوئی شخص وادی کو پار کر لیتا تو قطن کہتے اسے اس کا جائزہ یعنی انعام دو۔یہاں تک کہ سارے لشکر نے وادی پار کر لی اور یوں ان سب کو چالیس لاکھ درہم دیے گئے مگر گورنر ابن عامر نے قطن کو یہ رقم دینے سے انکار کر دیا اور یہ بات حضرت عثمان کی خدمت میں تحریر کی۔اس پر آپ نے ، حضرت عثمان نے فرمایا کہ یہ رقم قطن کو دے دو کیونکہ اس نے تو اللہ کے راستے میں مسلمانوں کی مدد کی ہے۔پس اس وادی کو عبور کرنے کی وجہ سے اس دن سے انعام میں دی جانے والی رقم کا نام جو ائز پڑ گیا۔جو جائزہ کی جمع ہے۔748 حضرت عثمانؓ سے ، ایک دفعہ جب بیمار ہوئے تھے تو خلیفہ مقرر کرنے کی درخواست بھی کی گئی۔اس واقعہ کو ہشام نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ مروان بن حکم نے مجھے بتایا کہ جس سال نکسیر کی بیماری پھیلی حضرت عثمان بن عفان کو بھی سخت نکسیر ہوئی۔ناک میں سے خون آنے لگا یہاں تک کہ اس بیماری نے ان کو حج سے روک دیا اور انہوں نے وصیت کر دی تو اس وقت قریش میں شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں۔سے ایک آپ کی ایسی حالت ہو رہی ہے کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں۔حضرت عثمان نے پوچھا کیا لو گوں نے یہ بات کہی ہے ؟ اس نے کہا کہ ہاں۔حضرت عثمان نے پھر پوچھا کہ کس کو خلیفہ بنانا چاہتے ہیں؟ وہ خاموش رہا۔اتنے میں ایک اور شخص ان کے پاس آیا۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ حارث تھا۔کہنے لگا کہ خلیفہ مقرر کر دیں۔حضرت عثمان نے فرمایا کیا لوگوں نے یہ کہا ہے ؟ اس نے کہا ہاں۔حضرت عثمان نے پوچھا وہ کون ہے جو خلیفہ ہو گا ؟ وہ خاموش رہا۔حضرت عثمان نے کہا شاید وہ کہتے ہیں زبیر کو۔اس نے کہا ہاں۔حضرت عثمان نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جہاں تک مجھے علم ہے وہ ان میں سے یقینا بہتر ہے اور رسول اللہ صلی علیکم کو بھی ان سب سے زیادہ پیارا تھا۔749 آپ کو کتابت وحی کا بھی موقع ملا۔ایک روایت میں ہے کہ سورہ مزمل کے نزول کے موقع پر حضرت عثمان کو کتابت وحی کی سعادت ملی۔ام کلثوم بن ثمامہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے کہا کہ ہم آپ سے حضرت عثمان کے بارے میں پوچھتے ہیں کیونکہ لوگ ان کے بارے میں ہم سے بکثرت پوچھ رہے ہیں۔اس پر حضرت عائشہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت عثمان کو رسول اللہ صلی الم کے ہمراہ اس گھر میں ایک شدید گرم رات میں دیکھا جبکہ نبی صلی اللہ تم پر حضرت جبرئیل وحی نازل کر رہے